بند کریں
منگل فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈالر کو حتمی جھٹکا دینے کی تیاری؟
یوکرائن کے حالات پوٹن نے کنٹرول کئے لیکن پوٹن کو کون کنٹرول کر رہا ہے! پوٹن کے ذریعے امریکی اسٹاک مارکیٹ کی تباھی کے بعد امریکی ڈالر آخری ہچکی لے گا
محمد انیس الرحمن :
اس حوالے سے ہم پہلے بھی بات کر چکے ہیں کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ” تم ( مسلمان) روم سے اتحاد کرو گئے“۔ اس حوالے سے امت مسلمہ کے جید عالم بھی مغالطے میں رہے ہیں کہ یہ کون سا روم ہے؟ کیا اٹلی کا موجودہ شہر روم ؟ جو رومن کیتھولک کلیسا کا مرکز ہے یا وہ روم جو قرآن کریم کی سورة روم میں مرکوز تھا؟ امت مسلمہ کے علما کو اس بات سے اچھی طرح واقفیت ہونی چاہیے کہ زمانی لحاظ سے جس جغرافیائی خطے کی جانب اشارہ کیا جائے ۔
بعد کی تاریخ میں اس سے مراد وہی خطہ ہوتا ہے نہ کہ اس کے نام کا اطلاق بعد میں کسی اور جغرافیائی خطے پر ہونے لگے۔ ہمیں اس بات کا پوری طرح ادراک ہونا ضروری ہے کہ آج سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے جس وقت قرآن کریم میں سورة روم کے نا م سے ایک عظیم الشان سورت نازل ہوئی یا اسی دور میں نبی پاک ﷺ نے یہ فرمایا کہ ” تم روم کے ساتھ ایک اتحاد کرو گے“ تو اس کا اطلاق اس وقت باز نطینی (رومن) سلطنت جو فکری بنیاد پر مشرقی کلیسا پر استوار تھی پر ہوتا تھا اور اس کا مرکز قسطنطنیہ (استنبول) تھا اور جس وقت یہ سلطنت ذوال پذیر ہوئی اور قسطنطنیہ پر قبضہ ہوا تو مشرقی کلیسا باقی رہا جس نے مغربی یورپ کی جانب سفر نہیں کیا بلکہ قسطنطنیہ سے آج کے ماسکو منتقل ہوگئی اس لئے قرآن اور حدیث میں مذکور روم آج کا روس ہے لیکن اس کا ادراک صرف تاریخ کے علم سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان سکالر ” فلسفہ تاریخ“ سے استفادہ کریں کیونکہ اس علم اور دیگر علوم کے بغیر قرآ ن اور حدیث میں موجودہ آج کے دور سے متعلق حیرت انگیز انکشافات کھولے نہیں جا سکتے۔

اس ساری تمہید کا بڑا مقصد یہ ہے کہ آج دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ وقوع پذیر ہونے والی جوہری تبدیلیوں کا بڑا مرکز روس بن چکا ہے جس نے امریکہ اور مغربی یورپ میں گاڑے ہوئے صہیونی بینکروں کو دیس نکالا دینے کا پورا عزم کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں نئی کشمکش کا بڑ امرکز یر کرین بن چکا ہے اور عالمی سطح پر روس اور صہیونیت کا حالیہ یوکرین میں جاری کشمکش کو روسی صدر ولا دیمیر پوٹن کنٹرول کر رہے ہیں لیکن پوٹن کو کون کنٹررل کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔؟
عرب صحافی ذرائع کے مطابق اس وقت پورٹن شخصی طور پر تنہا روتھ شائلڈ۔ روکفلر صہیونی بینکنگ کی عالمی کارٹیل کے ساتھ نبرد آزماہیں اورروس میں اس وقت ان کے بینکوں کے لئے کوئی جگہ نہیں بچی۔ یہ وہ صہیونی بینکرز ہیں جن کے فرنٹ مینوں نے مغربی میڈیا کو کنٹرول کررکھا ہے اور انہیں دجالی بینکروں کی اقتصادی پالیسی کے تحت دنیا بھر میں سیاسی بحرانوں کی روہ ہموار کر کے دجالی مقاصد حصل کئے جاتے ہیں اس لئے ان شیطانی بینکروں کے دجالی ورلڈ آرڈر کے خلاف دنیا بھر کے حلقے روسی صدر پوٹن کو ” جنگ آزادی “ کا ہیرو قرار دے رہے ہیں۔
جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ واقعی صحیح ہے کہ پوٹن نے اپنے ملک اور اردگر د کی ریاستوں کو اس دجالی بینکنگ نظام سے نجات دلانے کا تہیہ کر رکھا ہے تو پھر ممکن ہے کہ پوٹن کی سیاسی اور طبعی زندگی کم ہو جائے ۔۔!! کیونکہ ماضی میں جس لیڈر نے بھی ان صہیونی بینکروں کا مقابلہ کیا اسے راستے ہٹا دیا گیا۔ اس کی جدید تاریخ میں پہلی مثال امریکی صدر ابراہام لنکن ہیں جنہوں نے روتھ شائلڈ بیکنگ نظام کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا اور ” پر اسرار قاتل“ کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے۔
جس وقت امریکی صدر میکنلے نے امریکہ اسپین جنگ کا ٹھیکہ صہیونی بینکروں کو دینے سے انکار کیا اور امریکہ میں پرائیوٹ صہیونی بینک” فیڈرل ریزرو“ کے قیام کی مخالفت کی تو اسے راستے سے ہٹا دیا گیا۔ جس وقت جان ایف کینیڈی نے صہیونی بینک فیڈرل ریزرو بینک کی پول یہ کہہ کر کھولی کہ اس نجی بینک نے حکومت کو قرضہ دے کر گئی گنا اور گئی مرتبہ سود حاصل کیا ہے اس نجی صیہونی بینک کی امریکہ میں اجارہ داری ختم کرنے کے لئے کانگریس میں بل پاس کروایا تو اسے تمام دنیا کے سامنے قتل کر دیا گیا یہ بل آج بھی پاس ہے اور ” کینیڈی ڈالر“ کے نام سے موسوم ہے لیکن کسی بعد میں امریکی صدر میں اسکونافذ کرنے کی ہمت نہ رہی۔
جس وقت امریکہ صدر رونالڈر یگن نے سرد جنگ کے بدل کے طور پر مشرق و سطی میں دہشت گردی کو ہوا دینے سے انکار کیا تو اسلحے کی فروخت سے متعد دبار کئی ٹریلین ڈالر منافع کمانے والے بینکروں نے ان پر قاتلانہ حملہ کروایا جس میں وہ بال بال بچے۔ عراقی صدر صدام حسین نے انے ملک میں کئی بات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں لیکن جس وقت صدام نے ڈالر کی بجائے یورو میں اپنا تیل فروخت کرنے کا اعلان کیا تو انہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بنیاد بنا کر صدام اور عراق کو تباہ کر دیا گیا۔
جس وقت لیبیا کے معمرقذافی نے صیہونی بینکر کا یہ مطالبہ مسترد کر کہ وہ افریقین یونین بنانے سے باز آجائے اور سنیٹرل افریقن بینک کے قیام کا منصوبہ ترک کر دے اور اپنے تیل کی قیمت کے طور پر سونا طلب کرنے سے رک جائے تو اسی قذافی کی ” انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں “ کا الزام لگا کر اسی کے عوام کے ہاتھوں مروا دیا گیا۔ یہ وہ قذافی تھ اجو لیبیا میں ہر نئے شادی شدہ جوڑے کو نیا مکان دیتا تھا۔
یہاں تیل اور گیس کی قیمت نہ ہونے کے برابر تھی(پٹرول چودہ سینٹ پر گیلن)۔ لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ بھی نہیں تھا تعلیم اورطبی سہولتیں مفت تھیں۔ اس قدر معاشی استحکام صہیونی روتھ شائلڈ اور راکفلر بینکرز کو پسند نہیں تھا اور افریقن سینٹرل بینک ان کی براعظم میں کمر توڑ سکتا تھا۔۔۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔۔۔ لیبیا ایک انتہائی منافع بخش خطہ ہونے ہونے کے باوجود صیہونی بینکرز کے کنٹرول میں نہیں تھا۔
عاقبت نا اندیش” مجاہدین“ نے صیہونی بینکرز کے ہاتھ مضبوط کر دیئے۔۔۔۔۔یہی کام پاکستان میں پاک فوج کے خلاف کیا گیا ہے اور طالبان کے نام سے ایسے گروہ تشکیل دیئے گئے جنہوں نے پاک فوج کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔یہ انتہائی خوفناک منصوبہ ہے کیونکہ پاکستان نے مستقبل قریب میں جو عالمی حالات رونما ہونے والے ہیں ان میں اہم کردارادا کرنا ہے اور یہاں پاکستان سے مراد پاک فوج ہے جو مسلم دنیا کی جانب سے سب سے زیادہ ررعمل دے گئی۔
اس ردعمل کو قبل از وقت ہی کمزور کر نے کے لئے نائن الیون کے بعد مشرف سے ایسے اقدامات کرائے گئے جس سے قبائلی علاقوں میں رد عمل کی تحریک پیدا ہو گئی پھر ان دجالی صیہونی قوتوں نے افغانستان میں بیٹھ کر یہاں ایسی گروں بندیاں کیں جنہیوں نے انتقام کے نام پر پاک فوج پر حملے شروع کئے اور پاکستان کی عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر کے درحقیقت وہ اسلام قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں، یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ ایک بھی پاکستانی فوجی کا نقصان درحقیقت پاکستان اور عالم اسلام کا نقصان ہے جو جو اس قم کی کاررائیوں میں ملوث ہیں وہ لیبیا کے حالات سے سبق سیکھ لیں۔
جن ” مجاہدین“ نے قذافی کی حکومت کے خلاف ” علم جہاد “ بلند کیا تھا وہ مجاہدین اب کہاں ہیں؟ کیا انہیں مجاہدین کہ جا سکتا ہے جن کی مدد نیٹو کرے؟ اب لیبیا کے تیل اور معاشیات پر صہیونی بینکروں کا قبضہ ہے اور جغرافیہ پر نیٹو کا۔۔۔ کہا ں گئے وہ ” مجاہدین“ جو اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے سرکاری تنصیبات اور فوجوں پر حملہ کرتے تھے؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پوٹن ان سابقہ لیڈروں سے مختلف کیوں ہیں جو صہیونی بینکروں کے سامنے دیوار بنتے رہے اور جنہوں نے دجالی نیوورلڈ آرڈر کوتسلیم کرنے سے انکار کیا؟؟ اگر واقعی پوٹن صہیونی بینکروں کے خلاف ہے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ روس اس وقت امریکہ کے ساتھ حالت جنگ میں آچکا ہے؟ اگر آج کے حالات میں آپ پوٹن کے حمایتی ہیں تو کیا س کا مطلب یہ نہیں کہ آپ خود کش بمبار ہیں۔
۔۔۔؟ ایسے سوالات آخر کیوں اٹھ رہے ہیں؟ کیونکہ ایک طرف دیکھا جائے تو پوٹن کا روس اس وقت یورپ کو انرجی سپلائی کرنے والا سب سے بڑ املک ہے۔ کیا ہمیں معلوم ہے کہ روس اس وقت جرمنی کی 36فیصد گیس کی ضرورت پوری کرتا ہے؟ اٹلی کی 27فیصد گیس کی ضرورت روس سے پوری ہوتی ہیں ۔ فرانس کی گیس کی مجموعی ضروریات کا 27فیصد روس سے لیا جاتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ان صہیونی بینکروں کی اجازت کے بغیر روس یور پ کی توانائی کی ضروریات کو پورا کر سکتا ؟ کیا یہ عالمی صہیونی ساہو کار اس میں سے اپنی کمیشن نہیں لیتے ہوں گئے؟کیا روتھ شائلڈ بینکرز یورپ کیلئے روسی توانائی کی اس سپلائی پر پابندی عائد کر سکتے ہیں؟ جبکہ اس کی خرید و فروخت کی تمام مالیاتی ٹرانز کشن انہیں بینکوں کے ذریعے ہوتی ہے اور یورپ کو کہہ سکتے ہیں کہ اس سے کئی گنا زیادہ قیمت پر توانائی اور کہیں سے حاصل کی جائے؟ صہیونی بینکروں کے چنگل سے آزادی کی اس روسی جن گ کا پھرکیا مقصد ہو سکتا ہے ؟ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی انہی صہیونی دجالی بینکروں کا وضع کردہ منصوبہ ہے جس میں پوٹن کو ایک غیر محسوس طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے ۔
کیونکہ صہیونی بینکرز نے ہمیشہ دونوں طرف کنٹرول رکھا ہے اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جی بی کے سابق آفیسر ہونے کے باوجود اسے یہ کھیل کیوں سمجھ نہیں آرہا کہ جہاں یورپ کو روسی گیس کی ضرورت ہے وہاں روس کو بھی یورپ سے اس کی قیمت کی ضرورت ہے جبکہ صہیونی بینکرز ان دونوں جانب کے بیچ میں بیٹھے ہیں اور جو کچھ یورکرائن میں ہو رہا ہے اور اس کی اجازت بھی دے دیں۔
۔۔۔ جبکہ وہ دونوں جانب سے بھارت منافع کماتے ہیں۔
کیا تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ صہیونی بینکرز نے ہمیشہ ” دونوں جانب“ اپنی پوزیشن مستحکم رکھی وہ کھیل کا کوئی پہلو اپنے خلاف جاتا دیکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ امریکہ میں سیاسی معاملات کیلئے دو جماعتیں ہیں کیا ہمیں معلوم نہیں کہ ان دونوں جماعتوں( ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن) صہیونی بینکرز ہی اپنی میڈیا اور ملٹی نیشنل کمپنیز فرنٹ مینوں کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ بنی عیسی  امعبد سیلمانی کے مدخل پر بیٹھے” منی چینجرز “ اور کاہنوں کے گٹھ جوڑ سے سخت نالاں تھے جو مل کر بھی اسرائیل کو لوٹ رہے تھے آپ سے انہیں بزور قوت وہاں سے نکالنے کی کوشش کی ۔۔۔لیکن ایسا صرف ایک بار ہی ہو سکا۔۔۔۔ بعد میں کیا ہوا؟ انجیل اور قرآن کریم میں اس کی وضاحت موجود ہے۔
پہلی جنگ عظیم 27ملکوں کے درمیان لڑی گئی۔
اس میں شمولیت کرنے والوں کی مجموعی تعداد 66ملین تھی۔ سات ملین سے زیادہ افراد اس جنگ میں مارے گئے 30ملین کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ اس جنگ پر خرچ ہونے والے بلا واسطہ اخراجات کا تخمینہ 150 ٹریلین ڈالر کے قریب تھاجبکہ براہ راست تخمینہ210ٹریلن ڈالر لگایا گیا ہے جبکہ صیہونی بینکوں کو ادا کیا جانے والا کئی بلین ڈالر کا سود اور اضافی اخراجات اس میں شامل نہیں ہیں۔
یہ جنگ شاید1915میں ختم ہوجاتی لیکن روتھ شائلڈ اورراکفلر بینکرز نے اسے مزید تین سال کیلئے طویل کیا تاکہ امریکہ میں نجی صہیونی فیڈرل ریزرو بینک جو 1913میں قائم کیا گیا تھا اس سے مزید رقم جنگی قرضوں کی شکل میں نکالی جا سکے۔ یہ ہے ان صیہونی بینکروں کا کام کہ وہ کس طرح جنگوں کے امکان پید اکرتے ہیں پھر اسے طوالت بخشتے ہیں اور دونوں جانب کی قوتوں کو کاغذ کی فراڈکرنسی کے ذریعے کنٹرول کر کے اصل زر (سونا) اپنے قبضے میں لاتے ہیں۔

اسٹینڈرڈ آئل کمپنی کی جانب سے دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے خلاف اتحادیوں کو بھار ی سود پر قرضے دیئے گئے تھے دوسری جانب اسی کمپنی کے مالکان صہیونی بینکرز نازیوں کو سرمایہ مہیا کر رہے تھے اس کی مزید وضاحت چارلس ہگہام کی کلاسک کتاب Trading With the Enemy(1983) میں موجود ہے اس نے صاف بیا ن کیا ہے کہ راکفلر کی اسٹینڈرڈ آئل کمپنی نازیوں کو بھی تیل مہیا کر رہی تھی۔
بڑے بش کا باپ پریسکوٹ بش اس الزام کی زد میں آیا تھا کہ وہ دشمن کو مدد فراہم کر کے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔ لیکن جلد ہی پریسکوٹ بش پر یہ الزام دبا دیا گیا کیوں کہ یوایس او کا انچارج تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران دونوں طرف آئی بی ایم کی مصنوعات اور کوئلے کی سپلائی جاری رہی۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ روسی صدر پوٹن ان تمام معاملات سے بالا تر ہو۔
۔۔؟ اس سارے کھیل اگلا فیز دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے جہنم میں جھونکنے جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کھیل میں عالمی صہیونی ساہوکاروں کا بڑا مقصد ڈلر کو آخری اور حتمی جھٹکا دینا ہے۔ پوٹن چاہے یہ نہ چاہے وہ عالمی ساہوکاروں کے اس مکروہ کھیل کا بڑا حصہ بن چکا جس کی منصوبہ بندی سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل میں کی گئی تھی اور جو اس پر یقین نہیں رکھتے تاریخ کے سبق اور موجودہ حقائق سے آنکھیں بند کر لینا چاہئیں!! اب صورتحال یہ ہے کہ بڑے عالمی بینکوں کے مراکز تاحال امریکہ اور مغربی یورپ میں ہی ہیں لیکن یہ اب زیادہ تر بڑی بڑی عمارتوں اور انتظامیہ کی شکل میں ہیں کیونکہ ان کے حقیقی مراکز گزشتہ کئی عشروں سے انتہائی خاموشی کے ساتھ اسرائیل منتقل کئے جاتے رہے ہیں۔
اصل زریعنی سونا جس کی بنیاد پر یہ دجالی بینک کاغذ کی فراڈ کرنسی ڈالر اور دیگر ناموں سے کرنسی جاری کرتے ہیں اس سونے کی بڑی تعداد بہت پہلے امریکہ سے پہلے یورپ منتقل کی گئی اور اباس کا بڑا حصہ تیزی کے ساتھ اسرائیل منتقل کیا جارہا ہے۔۔ ایسا کیوں ہے ؟ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کو مستقبل میں روسی عسکری ردعمل سے بچانے کے لئے پولینڈ پھر جارجیا اور اس کے بعد یورکرائن میں میزائل شیلڈ نصب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا وہ فی الحال ناکام ہو چکا ہے اسی لئے یوکرین میں سیاسی بحران کی شکل میں نیا منصوبہ شروع کیا گیا اب جبکہ کریمیا کے عوام نے روس میں ادغام کے حق میں ووٹ دے دیا ہے تو حالات پہلے سے زیادہ خراب کئے جائیں گئے اور اس سیاسی بحران کو روس اور امریکہ کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنایا جائے گا امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں کے ذریعے روس کی معاشی ناکہ بندی کرنے کی پہلے ہی دھمکیاں دے رہا ہے لیکن اس کی اپنی اقتصادی صورتحال بہت پتلی ہے جس دن روس کے ذریعے امریکہ اور مغربی ملکوں کی اسٹاک کمپنیوں پر دھاوا بولا جائے گا اس وقت ڈالر اپنی آخری ہچکی لے گا اوردنیا بھر میں کاغذی کرنسی ختم کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا جن جن ملکوں کی اقتصادی سورتحال ڈالر سے منسلک ہوگئی ان کا بھی دھڑن تختہ ہو جائے گا سب سے زیادہ نقصان تیل پید اکرنے والے عرب ملکوں کا ہو گا جنہوں نے اپنے تیل کی قیمتوں کو ڈالر سے منسلک کر رکھا ہے اور یہ ڈالر امریکی بینکوں میں پڑے ہیں۔
ڈالر کے زوال کے ساتھ ہی یہ دولت کا غذ کے بے معنی ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی اور اس کے ساتھ ہی اسرائیل آگے بڑھ کر انتہائی جدید ہتھیاروں کی بنیاد پر خطے کے توانائی کے ذخائر اپنی تحویل میں لے لے گا عربوں کی دولت پہلے ہی کاغذ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہو گئی اور اب ان کے تیل پر قبضہ جما کر رہی سہی کسر نکالی جائے گی جس کی وجہ سے یہ خطہ انتہائی خونریزی کا شکار ہو گا اور عرب کا خون بہے گا۔
۔۔ ابراہیم کی وہ چھری جو ابوالعرب اسماعیل کی گردن پر رکھی گئی تھی درحقیقت اب عربوں پر چلے گی۔۔۔۔ کیونکہ اسرائیل اس قوم کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہے کہ امریکہ بھی اس کا تصور نہیں کر سکتا۔۔۔۔ یہی سب کچھ عالمی صہیونی بینکروں کا منصوبہ ہے کیونکہ جتنی تعداد میں صہیونی بینکوں نے ڈالر چھاپ کر عالمی مارکیٹ میں پھینک رکھے ہیں اس کا اصل زریعنی سونا ان بینکوں میں موجود ہی نہیں ہے یہ سونا نائن الیون کے بعد سے ہی امریکہ سے یورپ اور وہاں سے اسرائیل منتقل کیا جاتا رہا ہے ۔
ایسا کرنے سے صہیونی بینکروں کا اصل مقصد کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ڈالر کے زوال کے فورا بعد دنیاکے کاروبار چلانے کے لئے ایک نئی کرنسی کی ضرورت ہوگی لیکن اسے رائج کرنے کا اختیار اس قوت کے پاس ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ مقدار میں سونا ہوگا۔ یقینی سی بات ہے کہ ان ملکوں میں سر فہرست اسرائیل ہو گا اسی لئے امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت سے کاروبار دنیا چلانے کے لئے ای کرنسی کا اجرا عمل میں لایا جائے گا کوئی اور ملک اس الیکٹرانک کرنسی کی مخالف اس لئے نہیں کر سکے گا کہ دنیا میں درآمدات اور برآمدات کے لئے کسی نہ کسی بین الاقوامی کرنسی کا سہار ا لینا پڑتا ہے اس لئے اپنے آپ کو عالمی کاروبار کی مارکیٹ میں شامل رکھنے کے لئے نہ چاہتے ہوئے بھی مخالف ملکوں کو یہ معاشی سامرا جیت قبول کرنا پڑے گی جس کا سب سے بڑا مرکز اسرائیل میں ہوگا۔
اس طرح اسرائیل سیا سی طور پر بھی امریکہ کے بعد دنیا کی عالمی سیادت رکھنے والا ” سپر پاور“ ملک بن جائے گا اور یہی عالمی دجالی صہیونیت کا سب بڑا مطمع نظر ہے اور اس ایک مقصد کی بار آوری کے لیے اس وقت تمام دنیا میں مختلف ناموں سے جنگوں کی آگ بھڑکائی گئی ہے جس میں سب سے زیادہ نشانہ مسلمان کا بنا یا جا رہا ہے کیونکہ مسلمان ہی اس مرحلے میں سب سے بڑی مزاحمتی قوت کے طر پر سامنے آئیں گے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی صیہونیت کو ایسی کرنسی کا کیا فائدہ ہوگا تو اس کا جواب ہے کہ یہ ایسی کرنسی ہوگئی جسے بینکوں کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا یعنی اسے آپ نہ ہاتھ سے چھو سکیں گے اور نہ ہی کرنسی نوٹوں کی طرح اسے جیب یا گھر میں رکھ سکیں گئے۔ آپ کی دولت تنخواہ کی شکل میں یا کاروباری سرمایہ کی شکل میں بینک میں موجود ہوگئی جس طرح کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کسی بی شے کی مالیت مشتری سے بائع کے کھاتے میں منتقل ہو جاتی ہے اسی طرح سے آپ بینک کو اپنے پیسے کا مصرف بتائیں گے اس طرح مطلوبہ مقدار خود بخود مطلوبہ جگہ پہنچ جائے گئی لیکن جیب میں رکھی ہوئی کرنسی کو ہم جیسے چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
ان جگہوں پر بھی خرچ کر سکتے ہیں جو اسلام دشمن قوتوں کو نا پسند ہیں لیکن ای کرنسی کے استعمال کا سرا ریکارڈ بینک میں محفوظ ہوگا اورصرف انہی جگہ پر اسے استعمال کیا جا سکے گا جس کی مقامی حکومت اجازت دے گی اور مقامی حکومت کس کے کنٹرول میں ہوگی اس کا اندازہ آپ خود لگالیں، یوں دجالی صہیونیت کے خلاف اٹھنے والی ہر تحریک کا معاشی بائیکاٹ کے ذریعے گلا گھونٹنے کی کوشش کی جائے گی۔
سونے اور چاندی کو پاس رکھنا جرم ہوگا بالکل ایسے ہی جس طرح 1924ء میں امریکہ میں صہیونی ساہوکاروں نے کاغذ کی کرنسی کو رائج کرنے لئے سونے کی ملکیت کا عام آدمی کے لئے جرم قرار دلوا دیا تھا اورسستے داموں سونا عام آدمی سے خرید کر اسے بینکوں میں محفوظ کر لیا تھا۔ جو امیر لوگ اس پر آمادہ نہ تھے انہوں نے سونا فوراََ یورپ بھیجنا شروع کر دیا تا کہ وہ وہاں محفوظ رہے اس وجہ سے 1924ء کے بعد سوئٹزر لینڈ کے بینکوں کا وجود عمل میں لایا گیا تاکہ اس سونے کی بھاری مقدار کو سنبھالا جاسکے یہ بینک آ ج بھی یہی کام کر رہے ہیں۔
جب صہیونی بینکوں نے سونے کی بھاری مقدار سستے داموں امریکی عوام سے خریدلی تو اس کے چار برس بعد یہ پابندی ہٹا دی گئی اور اب وہ سونا جو آٹھ ڈالر فی اونس کے حساب سے خریدا تھا وہی سونا 24ڈالر فی اونس کے حساب سے امریکی عوام کو فروخت کیا جائے گا۔اس تناظر میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ الیکٹرانک کرنسی کو رائج کرنے لئے عالمی صہیونی ساہوکار سونے کی تجارت پر پابندی عائد کر دیں کیونکہ دنیا میں اصل زر صرف سونا اور چاندی ہی رہ جائیں گے۔
رسول پاک ﷺ کی ایک حدیث شریف ہے کہ” آخری زمانے میں دینار(سونا) اور درہم(چاندی) کے سوا ہر چیز اپنی وقعت کھو دے گی“ یہ حدیث شریف اس زمانے کے لئے ہے مگر افسوس کہ اسلامی دنیا کے علما نے اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی اور دجالی کاغذ کی کرنسی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے معاشی بغاوت کا اعلان تھا سے سمجھوتہ کر لیا اور امت کو بے مقصد فروہی جھگڑوں میں الجھا دیا ۔
یوکرائن سے شروع ہونے والے اب سے نئے عالمی کھیل کا ڈراپ سین انتہائی خوفناک ہے جو صہیونیت کے جھنڈے تلے امریکہ اور روس کی بڑی جنگ کا سبب بنے گی۔ یہ اسی تیسری عالمگیر جنگ کا ایک تسلسل ہے جس کی ابتدا نائن الیون کے ڈارمے سے کی گئی ہے۔ اس جنگ کے دو بڑے فیز ہیں پہلے فیز میں اسرائیل کے صہیونی جھنڈے تلے امریکہ اور مغربی یورپ ہے اور دوسرے جانب روس اور اس کے اتحادی، چین اور وسطی ایشیا ریاستیں ہیں۔
یہ جنگ اس قدر خوفناک ہے کہ اس جنگ میں ہر قسم کی ٹیکنالوجی ختم ہو جائے گئی اور کرہ ارض پر انسانوں کو اس سے بڑی تباہی کا پہلے کبھی سامنا نہیں رہا ہوگا یہی وہ مرحلہ ہے جس کے بارے میں ہم نے شروع میں ایک حدیث شریف کا حوالہ دیا ہے کہ ” تم (مسلمانوں ) روم (یعنی ماسکو) سے ایک اتحاد کرو گے“۔ اس کے بعد دوسرا فیز ہے جسے کنونشنل وار فیز کہا جا سکے گا اس میں قوت ان کے پاس ہوگئی جن کی نشاندہی ڈیڑھ ہزار برس پہلے کر دی گئی اسے دیکھنے اور سمجھنے کے لئے بصارت نہی بلکہ بصیرت کی ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-27

(101) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان