بند کریں
منگل فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈالر کی شرح تبادلہ
حکومتی ساکھ کیلئے امتحان ذخیرہ کرنے والے ڈالر کی قیمت گرنے پر ابتدا میں حکومت کا مذاق اڑاتے رہے
عبدالقدوس فائق:
وزیر خذانہ محمد اسحٰق ڈار کی جانب سے حالیہ مہینوں میں امریکی ڈالر کی قیمت میں کمی اور پاکستانی روپے کی قدر مستحکم رکھنے کے بیان کو کسی نے بھپکی‘ کسی نے مجذوب کی بڑ اور کسی نے لفاظی قرار دیا تھا۔ ان کے اس بیان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ ڈالر کی قیمت جو 105اور 106روپے پر آکر رک گئی تھی، توقع کے برعکس اس میں کمی ہونا شروع ہوگئی۔
یہ وہ تبدیلی تھی جس کے تحت ایک ہفتہ میں دیکھتے ہی دیکھتے ڈالر کا بھاؤ گرتے گرتے 98روپے پر آگیا۔ جس کے بعد وزیر خزانہ کے بیان پر تنقید کرنے والے‘ اسے بھپکی قرار دینے والے‘ مجذوب کی بڑ قرار دینے والے خاموش ہو گئے ایک سیاستدان نے تو ببانگ دہل بیان دیا تھا کہ اگر ڈالر کی قیمت ڈار صاحب کے بیان کے بعد کم ہوگئی تو وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے۔
مگر انہوں نے ڈالر کی قیمت کم ہونے کے بعد یہ کہہ کر مزید ایک شرط کا اجافہ کردیا کہ حکومت پٹرول کی قیمت میں کمی کرے تو وہ مستعفی ہونے پر تیار ہیں۔شیخ صاحب اپنی نوعیت کے منفرد سیاستدان ہیں، گویا نئی شرط عائد کر کے وہ قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے سے بچ گئے ہیں۔ بہر حال یہ تو ڈار صاحب کی تقریر اور سیاستدانوں کے درمیان روز مرہ کا ٹاکرہ ہے۔
ملک میں سابقہ حکومت کے دور سے ہی داالر کی قیمت میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہونا شروع ہوگئی تھی۔ میاں نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو ڈالر کا بھاؤ 96روپے تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہوچکے تھے 19ارب 64کروڑ امریکی ڈالرز مالیت کے ذخائر رہ گئے تھے ان میں 5ارب 76کروڑ روپے کے اسٹیٹ بنک کے ذخائر بھی شامل تھے‘ ان میں مسلسل کمی ہوتی تھی۔
اسی طرح امیرکی ڈالر اور دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی قر میں کمی ہوتی چلی گئی اور ایک ایسا وقت بھی آیا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی صرف ایک ماہ کی ضراریات پوری کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں اس کمی کا یہ نتیجہ نکلا کہ ایک دن میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ 111روپے تک جا پہنچا جبکہ انٹر بنک ریٹ بھی 110روپے کی حد عبور کرگیا ۔
تمام در آمدات جن میں پٹرولیم (جو درآمدی بل کا تقریباََ 50فیصد ہے)‘ چائے‘ خشک دودھ‘ گرم مصالحے‘ ادویات‘ صنعتی خام مال‘ ہر قسم کا خوردنی تیل‘ شہد‘ لہسن‘ ادرک‘ تمام مشینری‘ الیکٹرونکس کے سامان‘ گاڑیاں‘ انکے پروزوں سمیت ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں 30فیصد تک اضافہ ہوگیا۔ پورا ملک مہنگائی کی لپیٹ میں آگیا۔
اسی کے ساتھ حکومت کو بیرونی قرضوں پر بھی بھاری فاضل رقم ادا کرنا پڑی۔ اس صورتحال میں زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ملک میں بدامنی اور بے یقینی کی کیفیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کئے جانے کی وجہ سے لوگوں نے اب جائدادوں‘ اراضی کی خرید و فروخت ‘ اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے بجائے ڈالر اور سونے کی خریداری میں سرمایہ لگانا شروع کردیا ہے۔
وزیر خزانہ کی سفارش پر حکومت نے سونے کی درآمد پر پابندی عائد کر دی لیکن ڈالرز ذخیرہ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک محتاط سروے کے مطابق اس دوران مارکیٹ سے 10ارب ڈالرز سے زائع خریداری کی گئی۔ ظاہر ہے کہ جب مارکیٹ میں ڈالر کی طلب اور فروخت میں اضافہ ہوگا تو لازماََ اس کا قیمت پر بھی اثر پڑے گا اس صورتحال میں اسے ختم کرنے کیلئے ڈالر صاحب نے جو حکمت عملی مرتب کی اس کے تحت سونے کی درآمد پر پابندی عائد کر کے ایک طرف تو ذخائر میں ہونے والی تیز ترین کمی کو روکاگیا تو ساتھ ہی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کے اقدامات کئے گئے ہیں۔
اس صورتحال میں حکومت نے بھی ایک بار پھر جوابی سٹہ شروع کیا جس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت میں کمی ہونا شروع ہوئی۔ اگرچہ کئی ہفتوں کے بعد کم ہوکر ڈالر 105 روپے پر مستحکم ہوگیا لیکن ڈالرز کا ذخیرہ کرنے والے خاموش بیٹھے رہے۔ پھر ڈالر کی قیمت میں اضافہ شروع ہوا تو وزیر خزانہ نے پھر اسے سابقہ 96روپے کی شرح پر لانے کا اعلان کیا۔ ذخیرہ کرنے والے اور اس سٹہ کے ماہرین اس پر ہنس دئیے‘ سیاستدانوں نے تنقید شروع کردی۔
مگر دوسے ہی دن ڈالر کا بھاؤ گرنا شروع ہوا اور ذخیرہ کرنے والوں کی آہ و بکا شروع ہوگئی۔ ڈالر کا بھاؤ 105.50روپے سے گر کر98روپے پر آگیا۔ اسی ایک ہفتہ میں اسٹیٹ بنک کے ذخائر میں 9کروڑ ڈالرز سے زرائع غیر ملکی ادائیگیوں ں کے باوجود 70کروڑ 20لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بنک کے مطابق یہ بڑی رقم مختلف ذرائع سے موصول ہوئی ہے۔ لیکن اسٹیٹ بنک نے ان ذرائع کی نشاندہی نہیں کی جبکہ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ذخائر مارکیٹ میں آنے سے وصول ہوئے ہیں جبکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ رقم دوست ملک سے 1.5ارب ڈالر کے تحفے کے نتیجے میں بڑھی ہے۔
مگر اسٹیٹ بنک نے کہیں بھی 1.5ارب ڈالر کی وصولی ظاہر نہیں کی ہے۔
فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان خان نے دعویٰ کیا ہے کہ بیرون ملک سے رقوم وصولی کے ساتھ ساتھ ملک میں ڈالرز کا ذخریہ کرنے والوں نے بھی مارکیٹ میں ڈالر فروخت کئے ہیں اور اسی کے نتیجے میں نہ صرف ذخائر میں اضافہ ہوا ہے بلکہ آئندہ ہفتہ تک ڈالر کا بھاؤ بتدریج کم ہو کر 96روپے کی سابق سطح پر آسکتا ہے۔
اس صورتحال میں ڈالرز میں سرمایہ کاری کرنے والا طبقہ سخت پریشان ہے ۔ اگر ڈالر 96روپے پر آگیا تو انہیں اربوں روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں انتہائی کم قیمت پر ڈال رمارکیٹ میں فروخت کرنا ہوں گے۔ صنعت و تجارت اور مالیاتی امور سے متعلق بعض حلقوں نے قبل ازیں ملک میں ڈالر کے بھاؤ میں اضافہ کوسٹہ اور ذخیرہ اندوزی قرار دیا تھا اور اب وہ اس کی قیمت میں کمی کو جوابی سٹہ بازی پر مبنی حکومتی اقدامات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل کمی‘ ذخائر میں مسلسل اضافہ‘ تجارتی خسارہ میں کمی کے بغیر ممکن نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-25

(6) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان