بند کریں
اتوار فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کرپشن…
ہمارے ہاں اِسے بڑائی کی علامت سمجھ لیا گیا ہے اگر ہم دنیا کے کامیاب اور ناکام ممالک کی فہرست پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ناکام ممالک میں کرپشن کا گراف دوسرے ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے
ابنِ ظفر:
اگر معاشرے کو تباہ کرنے والی ہزاروں خرابیوں کی کوئی ایک وجہ تلاش کریں تو وہ کرپشن ہے۔ یہ وہ ناسور ہے جس نے پاکستان کو ہی نہیں بلکہ دنیا کے متعدد ممالک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اگر ہم دنیا کے کامیاب اور ناکام ممالک کی فہرست پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ناکام ممالک میں کرپشن کا گراف دوسرے ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا لیکن بدقسمتی سے کرسی کے چند کیڑوں نے ذاتی مفادات کے لئے اسلام کے سنہری اصولوں کو پامال کرتے ہوئے اس وطن کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا شروع کردیا ۔ آج صورت حال اس نہج پرپہنچ چکی ہے کہ ملک کے اہم اور بڑے ادارے مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں۔ یہ وہی شعبے ہیں جو نجی سیکٹر کو اربوں کا منافع دے رہے ہیں لیکن سرکاری بابوؤں کی من مانیوں کی وجہ سے سرکاری سیکٹر مسلسل خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے اہم عہد یدار آج بھی لاکھوں میں تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ مراعات الگ سے ہیں۔
سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے کئی جگہ ضرورت سے کئی گنا زیادہ افراد کو بھری کیا جاچکاہے جبکہ غیر منافع بخش عہدے سالوں سے خالی پڑے ہیں۔ ایک طرف حکومت معاملات چلانے کیلئے غیر ملکی قرضوں کے ساتھ ساتھ مسلسل نوٹ چھاپتی چلی جارہی ہے تو دوسری طرف اہم سرکاری محکموں میں اعلیٰ افسروں پر کرپشن کے الزامات بڑھتے جارہے ہیں۔ حال ہی میں کچھ عہدیداروں نے استعفے دے دئیے ہیں۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کسی ایک شعبے میں نہیں بلکہ لگ بھگ ہر شعبے میں کرپشن عروج پر ہے۔اس حوالے سے یہ ضروری نہیں کہ یہ معاملات کسی ایک سطح تک محدود ہوں بلکہ جہاں کسی کالی بھیڑ کا بس چلتا ہے وہ وہیں وطن عزیز کو نقصان پہنچا کر اپنے گھر کی دیوار اونچی کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ہمارے ہاں ٹرینوں کے جنریٹرز میں بھی گندہ آئل ڈالا جاتا رہا۔
گندہ اائل ڈالنے والوں کو شاید چند روپے مل گئے لیکن پاکستان ریلوے کو جو نقصان ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ اس وقت بھی متعدد انجن ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے کباڑ خانے میں کھڑے ہیں۔ دوسری طرف ناکافی دستاویز کی وجہ سے 2513 پاکستانی صرف سعودی عرب کی جیلوں میں قید ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی یہی صورت حال ہے۔ یہ صورتحال چھوٹے ملازمین اور عام شہریوں سے لے کر بڑے انتظامی عہدوں تک یکساں ہے۔

حکومت کی جانب سے اخراجات کم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس اعلان کے باوجود وزیر اعلیٰ سیکٹریٹ کروڑوں روپے سپلمنٹری گرنٹ کے طور پر لے چکا ہے۔ غیر قانونی یا ناکافی دستاویز کے بل پر بیرون ممالک جانے والوں سے لے کر اہم انتظامی عہدے داروں تک کرپشن کی جو لہر سرایت کرچکی ہے، اس میں فرق صرف اختیارات اور مواقع کا ہی ہے۔
جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ اتنی ہی کرپشن کررہا ہے۔
آئین اور قانون کسی بھی ملک کی بنیادیں مضبوط رکھنے اور نظام مملکت کو رواں دواں رکھنے میں اہم کرداد ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں آئین موجود ہے اور ہر شعبہ ہائے زندگی کے حوالے سے قوانین موجود ہیں لیکن طاقتور بیورو کریسی اور بااثر سیاست دان اس کا جو حال کررہے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے۔
بااثر افراد کو سکیورٹی سے زیادہ نمودو نمائش کیلئے پروٹوکول کی خواہش رہتی ہے۔ اسی لئے قوم کے محافظوں کی اکثریت اب محض چند افراد کے ساتھ نتھی ہوکر رہ گئی ہے۔ رولز کے مطابق 450افراد کیلئے ایک اہلکار کا ہونا ضروری ہے ۔ آبادی کے اسی تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس میں بھرتیاں کی جاتی ہیں لیکن پروٹوکول کے خواہش مندوں نے ان رولز کی دھجیاں کچھ اس طرح اڑائی ہیں کہ اب وی آئی پیز سکیورٹی کیلئے 25ہزار اہلکار تعینات ہیں جبکہ 13سو شہریوں کیلئے صرف ایک اہلکار ڈیوٹی دے رہا ہے۔
اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے اس طریقہ کار کی وجہ سے پورا ملک جوائم پیشہ افراد کے لئے جنت بن چکا ہے۔ گزشتہ دنوں واہگہ میں جرائم پیشہ افراد سے قبضے میں لی گئی شراب جلانے اور تلف کرنے کیلئے اکٹھی کی گئی لیکن پولیس اہلکار ہی یہ شراب اٹھا کر گھر لے گئے۔
کرپشن کا گراف اس قدر اوپر جاچکا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو صرف پنجاب میں ہی کرپشن کی 25133شکایات مل چکی ہیں۔
نیب کا ریکارڈ دیکھیں تو دنگ رہ جائیں ۔ ایک طرف اربوں کے کیسز موجود ہیں تو دوسری طرف تحقیقات کرنے والے افسر کا مران پر اسرار حالات میں مردہ پایا جاتا ہے۔ کراچی میں 80فیصد فٹ پاتھ لینڈ مافیا بیچ چکا ہے تو دوسری طرف نیب جیسے اداروں میں کرپٹ مافیا کی برکتوں سے سٹاک براکرز سمیت تیل و گیس کی صنعت سے وابسطہ افراد بھرتی ہونے کی رپورٹ بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔
پولیس ایک طرف جعلی نمبر پلیٹس والی گاڑیاں بند کررہی ہے تو دوسری طرف خود پولیس اہلکاروں نے زیرا ستعمال گاڑیوں پر جعلی نمبر پلیٹس لگا رکھی ہیں۔
پرانے وقتوں میں کرپٹ افرا د اپنی کرپشن کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اب کھلے عام اس پر فخر کیا جاتا ہے کہ اب کرپشن ”سٹیٹس سمبل“ بن گئی ہے۔ یہ کرپشن نہ صرف یہ کہ حالت کی خرابی کا باعث بن رہی ہے بلکہ متعدد برائیوں کو بھی جنم دے رہی ہے۔
ہمیں اس صورتحال سے باہر نکلا ہوگا ورنہ آہستہ آہستہ کرپشن کے نتیجے میں جنم لینے والے لاقانونیت اور معاشرتی برائیاں ہمیں اس سطح پر لے جاسکتی ہیں جہاں انسان اور جانور کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے، چند روپوں کیلئے کرپشن اور بے ایمانی کا سہارا لینے والے نہ صرف لاکھوں حق داروں کے حق ماررہے ہیں بلکہ ملک کی جڑوں کو بھی کھوکھلا کررہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بروقت اہم اقدامات کئے جائیں اور کرپشن کے خاتمے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ہمیں بیرونی دشمنوں سے شاید اتنا خطرہ نہیں جتنا ذاتی مفادات کیلئے اپنے ہی ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے اندرونی دشمنوں سے ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-18

(0) ووٹ وصول ہوئے