بند کریں
بدھ مارچ

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجٹ سازی میں”ٹیکسوں کا کردار “
بجٹ کے کسی ملک کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مالی نظم و نسق کے درست فیصلے اور صادر کئے گئے فیصلوں سے مطلوبہ نتائج بروقت اخذ اگرنا کئے جائیں تو ملکی معیشت پر اسکے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں
محمد شفیع خان:
بجٹ کی تیاری کاکام عموماً ہر سال وسط مارچ میں شروع ہوجاتا ہے اور 31مئی تک تمام بجٹ تجاویز کوحتمی شکل دینے کے بعد قومی اسمبلی میں برائے منظوری پیش کردیا جاتا ہے جہاں بحث ومباحثہ کے بعد منظور کرکے سینٹ کو برائے منظوری پیش کر دیا جاتاہے یوں قومی بجٹ 30جون سے قبل منظور ہوکر قانونی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ 1سال بھی بجٹ کی تیاری کاکام ایف بی آر میں زور شور سے جاری ہے جو امید ہے کہ ماہ جون روان سال میں اسمبلی اورسینٹ سے پاس ہوجائے گا اور مالی سال 2014یعنی یکم جولائی 2013تا 30جون 2014پر اثر انداز ہوگا۔
بجٹ کے کسی ملک کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مالی نظم و نسق کے درست فیصلے اور صادر کئے گئے فیصلوں سے مطلوبہ نتائج بروقت اخذ اگرنا کئے جائیں تو ملکی معیشت پر اسکے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں یعنی اگر فیصلے تو درست کئے جائیں لیکن اْن پر عملدرآمد نہ ہوسکے جن کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں سب سے پہلی اور اہم وجہ سیاسی مجبوریاں ہیں جو ہمیشہ قومی مفادات کو سبوتاڑ کرتی رہی ہیں تو پھر اچھے اور برے بجٹ میں کوئی فرق نہیں رہتا جب کہ گذشتہ برس مالی سال 2013کیلئے منظور شدہ ٹیکس قوانین کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی حمایت کو اولیت دی گئی اس طرح اگر آئندہ بھی کیا گیا تو پھر بجٹ برائے مالی سال 2014سے ملکی معیشت میں بہتری کی امید عبث ہوگی۔
بجٹ برائے سال 2014میں ضروری ہے کہ ایسی منصوبہ بندی کی جائے کہ ہر پاکستانی جو انکم ٹیکس کی ادائیگی کے قابل آمدنی حاصل کرتا ہے اس سے ٹیکس وصول کیاجائے۔ اس وقت وطن عزیز میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایسے افراد اور اداروں کی تعداد کم از کم ایک کروڑہے،جن کو ٹیکس رول میں شامل کرنے کیلئے طریقہء کار کا وضع کیا جانا ایک اہم سوال بنا ہوا ہے۔
ٹیکس ریکارڈ سے باہر ان ایک کروڑ افراد کے لئے اسوقت انکم ٹیکس آرڈیننس میں کوئی قانون موجود نہیں جس سے ان افراد سے ٹیکس وصول ہو سکے۔ پس ضروری ہے کہ اس بارے میں قانون سازی کی جائے۔ اس وقت این ٹی این (NTN) ہولڈر کی کل تعداد 35لاکھ ہے جس میں سے بیشتر انکم ٹیکس ریٹرن (گوشوارے) داخل نہیں کرتے ایسے ریٹرن داخل نہ کرنے والے ٹیکس رول پر موجود افراد اور اداروں سے بھی ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنایا جائے۔

2سیلز ٹیکس کا نفاذ محدود کیا جائے یہ مہنگائی کو جنم دیتاہے جو شے 100روپے کی ہے اُس پر اگر 17فیصد سیلز ٹیکس نافذ ہوجائے تو اُس چیز کی قیمت 117روپے ہوجائے گی۔ گویا سیلز ٹیکس کا نفاذ بالواسطہ ٹیکس ہے جو ہر صارف کو سامان پر بوقت خریدار اداکرنا پڑتا ہے جنرل سیلز ٹیکس جو اس وقت کئی معمولی اشیاء پر لاگو ہے فی الفور ختم کردینا چاہئیے، سوائے ایسی اشیاء کے جو عام انسان کی ضرورت میں نہ آ تی ہوں۔
مثلا۔ سگریٹ۔ اشیاء تعیش۔ کاسمیٹکس اعلیٰ معیار کے ہوٹل۔ مشروبات۔ امپورٹڈ اشیاء ، تعمیراتی پرکشش قیمتی سامان مثلًا سینٹری کاسامان جو صاحب حیثیت لوگ اپنے بنگلوں گھروں اور پلازوں۔ شادی گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔ سونے چاندی کے زیورات قیمتی کراکری اور کٹلری کے سامان اور قیمتی پارچہ جات وغیرہ پر سیلز ٹیکس کا نفاذ درست ہے۔ اسی طرح کیمیکل چاہے امپورٹڈ ہوں یا ملکی سطح پر تیار ہوں۔
انڈسٹریل گیس پر۔ لوہے کے ایسے سامان پر جو بڑی بڑی کمرشل عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہوتا ہے قیام پاکستان کے بعد بھی سیلز ٹیکس صوبائی سطح پر وصول کیا جاتا تھااور یہی سیلز ٹیکس وفاقی سطح پر بھی لاگو تھا لیکن اس کا اطلاق محدودپیمانے پر تھاخاص طور پر درآمدی اشیاء پر اور ایسی ملکی اشیاء پر ہوتا جن کا براہ راست عام آدمی پر اثر پڑتا۔
اس کے برعکس گذشتہ دور میں نافذ العمل سیلز ٹیکس ایکٹ 1990میں جس طرح بار بار ترامیم کرکے اس کی شرح میں اضافہ کیا گیا اس سے مہنگائی نے جنم لیا ہے۔ ایف بی آر کو چاہیے کہ سیلز ٹیکس کے نفاذ کو 1990سے قبل کی اشیاء اور شرح تک محدود کردے تاکہ عام انسان اس بالواسطہ ٹیکس کے ناروا بوجھ سے بچ جائے۔
سیلز ٹیکس کے نفاذ کا نظام اس قدر غیر منظم ہے کہ ہر سال کھربوں روپے تاجروں اور صنعت کاروں کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔
یہ تاجر اور صنعت کار سیلز ٹیکس صارف سے تو بوقت خرید ہی وصول کرلیتے ہیں لیکن حکومت کو اپنی پوری سیل (Sale) ظاہر ہی نہیں کرتے۔ جس سے عوام سے وصول شدہ سیلز ٹیکس، محکمہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے عملہ کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو ادا ہی نہیں ہو پاتا۔ اتنی بڑی رقوم تاجروں کارخانہ داروں اور سرکاری اہلکاروں کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ اسی طرح جعلی سیلز ٹیکس انوائس Fake Sale Tax Invoice سے اربوں روپے کا سیلز ٹیکس ریفنڈ (Refund) حکومتی خزانے سے دھوکہ دہی سے عملہ اور تاجردونوں وصول کررہے ہیں۔
خاص طور پر لوہے کا تھوک کاروبار کرنے والے ادارے اور لوگ Fake Sale Tax Invoiceکے ذریعہ سے محکمہ سیلز ٹیکس کی ملی بھگت سے حکومتی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ گذشتہ ایک برس سے ایف بی آر FBRنے ہر کیٹگری کے کاروباری ادارے اور افراد کو سیلز ٹیکس ودہولڈنگ ایجنٹ بنادیا ہے With Holding Agentجس کے تحت کاروباری ادارے مال کی خریداری اور فروخت کے وقت 20فیصد سیلز ٹیکس بحیثیت ود ہولڈنگ ایجنٹ سرکاری خزانہ میں جمع کرانے کے پابند ہیں۔
لیکن اس کا بھی چور دروازہ ایف بی آر نے کھلا رکھا ہے۔ تاجر حضرات (FBR)ایف بی آر سے کٹوٹی میں چھوٹ (Exemption)کا سرٹیفیکٹ حاصل کرکے سیلز ٹیکس سے بچ جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو کرپشن سے پاک کیاجائے۔ سیلز ٹیکس کے آڈٹ کے نظام کو مربوط اور غیر لچکدار بنایا جائے تاکہ ٹیکس سے چھوٹ Tax Examption Certificate اور جعلی سیلز ٹیکس انوائس کا راستہ روکا جاسکے۔
انکم ٹیکس ود ہولڈنگ ٹیکسIncome Tax With Holding Tax کا دائرہ کار دو طرح سے نافذ العمل ہے۔ پہلا یہ کہ بعض کاروباری اداروں اور افراد پر انکم ٹیکس کی کٹوتی مقرر ہ شرح سے متعین کردی گئی ہے جو اْن کے لئے فائینل ٹیکس ہے جسے Fixed Tax کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً کرایہ پر دی گئی جائیداد پر کرایہ دار کی ذمہ داری ہے کہ وہ کرایہ کی رقم سے کرایہ ادا کرتے وقت مالک جائیداد سے انکم ٹیکس کی رقم کٹوتی کرکے مقررہ شرح سے داخل خزانہ کرے۔
یہی حتمی ٹیکس کرایہ کی آمدنی پر واجب الادا ہے۔لیکن افسوس کہ جو عمارات سرکاری محکموں کے پاس لیز پر ہیں وہی اس قانون کی پاسداری میں مقررہ شرح سے مالک جائیداد سے کٹوتی کرکے ٹیکس سرکاری خزانہ میں جمع کرواتے ہیں۔ جبکہ غیر سرکاری ادارے اور نجی کرایہ دار انکم ٹیکس آرڈیننس 2001میں تفویض کی گئی قانونی ذمہ داری جو کرایہ ادا کرنے والوں پر عاید کی گئی ہے وہ اسے پورا نہیں کرتے۔
اس طرح اربوں روپے کے محاصل جو کرایہ کی آمدنی پر بطور انکم ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع ہونے چاہئیں نہیں ہو پاتے۔ ایف بی آر کو چاہئے کہ کاروباری مارکیٹوں اور گھریلو کرایہ داروں کی جملہ معلومات صوبائی محکمہ ایکسائز اینڈ پراپرٹی ٹیکس کے محکمہ سے حاصل کر کے اس کھربوں روپے کی ٹیکس چوری کا تدارک کرے۔ صوبائی محکمہ پراپرٹی ٹیکس کے پاس جائیداد چاہے وہ ذاتی ہو یا کرایہ پر یا گروی مکمل معلومات دستیاب ہیں۔

اسی طرح پٹرول پمپ پر ڈیزل اور پٹرول فروخت ہوتا ہے جس پر 10 فیصدی کی شرح سے حتمی انکم ٹیکس مقرر ہے۔ Final Tax Liability جس کی کٹوتی ڈیزل اور پٹرول فروخت کنندہ کمپنی کے ذمہ ہے کہ وہ بطور ود ہولڈنگ ایجنٹ پٹرول پمپ مالکان سے کٹوتی کر کے سرکاری خزانہ میں بروقت جمع کرائے۔ پٹرول مالکان پٹرول اور ڈیزل کے علاوہ انجن آئل بریک آئل‘ موبل آئل بھی فروخت کرتے ہیں نیز کار سروس سٹیشن بھی چلاتے ہیں جن سے ان کو کثیر آمدنی ہوتی ہے مالکان پٹرول اور ڈیزل کی آمدنی پر فکس ٹیکس تو ادا کرتے ہیں لیکن دیگر آمدنی پر ٹیکس ادا نہیں کرتے۔
محکمہ ایکسائیز ٹیکس ان ٹیکس چوری کرنے والوں سے غافل ہے۔
Goods Transport Service :۔ باربرداری کرنے والے ٹرانسپورٹ ادارے جن کی گاڑیاں کرینیں ٹرک اور ٹرالے ذاتی ملکیت ہیں ان پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت کل بار برداری سے ملنے والی آمدنی پر 2 فیصد سالانہ حتمی ٹیکس مقرر ہے جبکہ کرایہ کی گاڑیوں سے بار برداری کا کام سرانجام دینے والوں پر بھی حتمی ٹیکس کی شرح 6 فیصد مقرر ہے۔

فکس ٹیکس:۔ محکمہ سوئی گیس ریلوے اور محکمہ انہار وغیرہ سالانہ اربوں روپے کا کرایہ برائے ٹرانسپورٹ مختلف گڈز ٹرانسپورٹ اداروں کو ادا کرتے ہیں جبکہ 99 فیصدی کنٹریکٹر کرایہ کے وہیکل سے کنٹریکٹ لیتے ہیں۔ انہیں ٹیکس 6 فیصدی کل آمد پر دینا چاہئے لیکن وہ صرف 2 فیصد ادا کرتے جبکہ اربوں روپے کے ٹیکس انکم ٹیکس کی غفلت کی وجہ سے خورد برد ہو جاتے ہیں اور سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہو پاتے۔

5۔ مال کی سپلائی 3/1-2 فیصد انکم ٹیکس کی کٹوتی مقرر ہے۔ جو کہ کسی کاروباری Final Income Tax Liability حتمی انکم ٹیکس کی ادائیگی تصور کی جاتی ہے۔ لیکن مال سپلائی کرنے والے ٹیکس دہندگان جو مال از خود بھی فروخت کرتے ہیں وہ اس پر سیلز ٹیکس محکمہ کو ادا کرتے ہیں نہ انکم ٹیکس ریٹرن (گوشوارہ) میں اسے ظاہر کرتے ہیں۔ اس وقت محکمہ انکم ٹیکس سے متعلق کئی ایک ادارے موجود ہیں جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس کی چوری اور ضیاع کی روک تھام کریں لیکن چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مربوط کرنے پر توجہ نہیں دی جاتی۔
اسی طور اور بہت سے شعبے ہیں جہاں بہتر نظم و نسق سے کھربوں روپے کے ٹیکس کو ضیاع سے روکا جا سکتا ہے لیکن یہ کام کون کرے گا۔
6۔ پاکستان میں بازاروں اور مارکیٹوں میں سمگل شدہ سامان کھلے عام فروخت ہو رہا ہے بلکہ اس قدر عام ہے کہ ضرورت کی ہر چیز گھروں تک دستک دے کر آوازیں لگا کر کھلے بندوں فروخت کی جا رہی ہے۔ یہ اشیاء کیسے اندرون ملک پہنچتی ہیں اور ان کو لانے والے کون لوگ ہیں اور وہ کن ذرائع سے پاکستان میں یہ اشیاء لا کرفروخت کرتے ہیں ہمارے کسٹم حکام اس سمگلنگ کے بارے میں سوچنے کا بھی تردد نہیں کرتے ہیں۔
ان غیر قانونی اشیاء کی آمد سے سرکاری محاصل کا نا صرف نقصان ہو رہا ہے بلکہ ملکی صنعت کے لئے ان اشیاء کی ترسیل اور فروخت زہر قاتل ہے۔ دوسری جانب جو اشیاء باقاعدہ درآمد ہو کر قانونی طور پر ملک میں آتی ہیں ان کی مالیت حقیقی درآمدی قیمت سے بہت کم قیمت ظاہر کر کے اربوں روپے کے ٹیکس چوری کئے جاتے ہیں۔ جو ٹیکس درآمدی قیمت پر مقررہ شرح سے وصول ہونے چاہئیں وہ برائے نام قیمت پر وصول ہو کر باقی امپورٹر کی جیب میں چلے جاتے ہیں اور کچھ کسٹم حکام کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔
گویا انڈرانوائس کے ذریعہ سے اربوں روپے کا انکم ٹیکس سیل ٹیکس کسٹم ڈیوٹی سرکاری خزانہ میں داخل ہونے کی بجائے کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔
7۔ انکم ٹیکس کے ضمن میں ٹیکس کی کٹوتی جسے پیشگی ٹیکس کی وصولی یا ود ہولڈنگ ٹیکس کہا جاتا ہے کو صرف اس حد تک برقرار رکھنا مناسب ہو گا، جس آمدنی پر حتمی ٹیکس کی وصولی کا اطلاق ہوتا ہے۔ بصورت دیگر ود ہولڈنگ ٹیکس کی وصولی ایسا بالواسطہ انکم ٹیکس ہے جو مہنگائی کو جنم دیتا ہے اور متوسط اور غریب لوگوں کیلئے مشکلات کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
جبکہ اس کا یوٹیلٹی بلوں پر اور دیگر کئی اخراجات پر وصول کیا جانا بلا جواز ہے، جسے فی الفور ختم کر دینا چاہئے۔ یوٹیلٹی بلوں میں بجلی کی قیمت تو کم ہوتی ہے لیکن سرچارج‘ سیلز ٹیکس‘ فیول ایڈجسٹمنٹ ایکسائیز ڈیوٹی وغیرہ کی بھر سے بجلی کا بل اصل رقم سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے جو صارف کی دسترس سے باہر ہوتا ہے۔ یہی حال ٹیلی فون اور دوسرے بلوں کا ہے۔
موبائل فون پر تو اس قدر ٹیکس ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایساکیوں ہے؟ 100 روپے اگر آپ موبائل فون میں بیلنس لوڈ کریں تو 22 روپے فوری طور پر کٹوتی ٹیکس کر لی جاتی ہے بعد میں بھی ہر کال پر ٹیکس کی کٹوتی جاری رہتی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟
8۔گذشتہ دو عشروں سے مسلسل ہر مرتبہ بجٹ تقریر کے دوران کہا جاتا ہے کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ٹیکسوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اسے کم کر کے صرف 2 کر دیں گے۔
یہ دعوے گذشتہ دو عشروں سے دہرائے جا رہے ہیں لیکن ہنوزٹیکسوں کی تعداد میں کمی نہیں ہوئی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایکسائز ڈیوٹی سرچارج‘ سیلز ٹیکس‘ انکم ٹیکس کسٹم ڈیوٹی اقراء سرچارج ایڈیشنل ٹیکس‘ دولت ٹیکس ‘ گنجائش ٹیکس وغیرہ سب کو کم کر کے صرف 2 ٹیکس برقرار رکھے جائیں باقی تمام کو ختم کر دیا جائے۔
گذشتہ برس کا بجٹ موجودہ حکومت کا پہلا بجٹ تھا جو ایک کہنہ مشق محکمہ انکم ٹیکس کے چیئرمین ایف بی آر نے ریٹائرمنٹ پر جانے سے چند روز قبل تیار کیا تھا۔
اگر اس بجٹ پربلا رکاوٹ بغیر سیاسی دباوٴ کے عمل ہو جاتا تو تاجر طبقہ‘ بیورو کریٹ اور سیاسی رہنماوٴں کے جملہ اثاثہ جات اور ذرائع آمدن کھل کر سامنے آ جاتے۔ اگر سال بھر انکم ٹیکس قوانین کو بلاتفریق و رعایت بروئے کار لایا جاتا ، اس میں حسب ضرورت ترامیم و اصلاح کر کے ٹیکس وصول کرنے والی سرکاری مشنری کو کرپشن سے پاک کردیا جاتا تو حصول مالیہ میں بہتری کی توقع ممکن تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
ایک محتاط ندازے کے مطابق صرف وفاقی سطح پر ہر مالی سال کے دوران 85 کھرب روپے کے ٹیکس مختلف ذرائع سے چوری ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے بعض باآسانی قابل وصول ہیں لیکن آج تک کسی حکومت نے اس قومی ضیاع پر توجہ نہیں دی۔ انکم ٹیکس ود ہولڈنگ ٹیکس یا تو مقررہ شرح سے نہیں کیا جاتا جن کاروبار یا آمدنی پر حتمی ٹیکس کے طور پر نافذ العمل ہے اور اگر کر لیا جائے تو سرکاری خزانہ میں داخل نہیں ہو پاتا۔

(ب) جعلی سیلز ٹیکس انوائیس سے اربوں روپے ٹیکس خورد برد کر لئے جاتے ہیں جو سرکاری خزانہ میں جمع نہیں ہو پاتے۔
(ج) سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے کھربوں کے جعلی ریفنڈ سرکاری خزانہ سے وصول کر لئے جاتے ہیں۔
(د) درآمدی مال کی مالیت اصل مالیت سے کم ظاہر کر کے کھربوں روپے کے انکم ٹیکس سیلزٹیکس‘ کسٹم ڈیوٹی چوری کر لئے جاتے ہیں۔
(ر) سمگلنگ کا غیر ملکی سامان کھلے بندوں شہروں اور قصبوں میں فروخت ہو رہا ہے جن پر اربوں روپے کے ٹیکس سرکاری خزانے کو نہیں ملتے۔

(ح) اشرافیہ جس میں بیورو کریٹ تاجر‘ سیاسی رہنما‘ پرتعیش زندگی گزارتے ہیں لیکن حکومت کو انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے ان سے کھربوں روپے ٹیکس وصول ہو سکتے ہیں۔ اس سورت حال میں ضروری ہے کہ مانیٹرنگ کا فعال نظام‘ ٹیکس وصولی کے اداروں کو فعال بنایا جائے ورنہ کوئی بھی ہدف حاصل نہ ہو پائے گا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-01

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان