بند کریں
جمعرات فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجٹ کے رجائیت پسندانہ اہداف
خوش کُن خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔۔۔۔ بجٹ کے رجائیت پسندانہ اہداف نواز شریف حکومت نے اپنے تیسرے سال کے بجٹ میں معیشت کے تمام شعبوں کے متعلق بڑے خوش کن ناممکنہ اہداف قائم کئے
پروفیسر نعیم قاسم
بجٹ کے رجائیت پسندانہ اہداف نواز شریف حکومت نے اپنے تیسرے سال کے بجٹ میں معیشت کے تمام شعبوں کے متعلق بڑے خوش کن ناممکنہ اہداف قائم کئے اور اسحق ڈار نے موجودہ بجٹ میں جو سحر انگیز خواب قوم کو دکھلائے ہیں اس پر تو یہی کہنا چاہیے۔
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
دل پْر اْمید کو تنہا چھوڑتے ہوئے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 5.5 فیصد مقرر کیا جبکہ گذشتہ سال پر ہدف 5 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔
مگر حقیقتاً یہ شرح نمو 4.2 فیصد رہی جسے کسی حد تک تسلی بخش اس لیے قرار دیا جا سکتا ہے کہ کئی سالوں کے بعد ہم نے گروتھ ریٹ کا ٹارگٹ 4 فیصد سے زائد حاصل کیا اس سال پتہ نہیں کس زعم یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ زراعت میں شرح نمو 9 فیصد حاصل کریں۔ صنعت میں 64 فیصد اور سروسز میں 5.7 فیصد جبکہ اقتصادی سروے 2014-15 کے مطابق ہماری زراعت میں شرح نمو 2.9 فیصد رہی جبکہ اس کا ہدف 33 فیصد مقرر کیا گیا ہے مگر جادو کی کس چھڑی سے ہم رائے 9 فیصد تک لے جائیں گے۔
کیا ہم کسانوں کو مفت کھاد بجلی اور اچھے بیج کی سہولتیں دے رہے ہیں جو وہ یہ ٹارگٹ حاصل کریں گے۔ وہ تو پہلے ہی اپنی زرعی زمین ٹاؤن پلانرز اور بلڈرز کو فروخت کر رہے ہیں کیونکہ چھوٹے کسانوں کو زراعت سے اسقدر آمدنی حاصل نہیں ہو رہی ہے جس سے وہ اپنی سانسوں کی ڈوری برقرار رکھ سکیں۔ پچھلے سال صنعتی ترقی کی شرح نمو 3.62 فیصد تھی جبکہ اس سال اس اسکا ہدف 5.7 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
تاہم سروسز کے شعبے کی شرح افزائش کے ہدف حقیقت پسندانہ لگتا ہے جو اقتصادی سروے 2014-15 کے مطابق پچھلے مالی سال میں 4.95 فیصد رہی ہے اور اس سال اسکا ہدف 5.7 فیصد رکھا گیا ہے اسحق ڈار نے اکنامک سروے کا تعارف کراتے ہوئے اور اپنی بجٹ تقریر میں بھی کہا کہ گذشتہ سال کی معاشی ترقی کی افزائش نمو کا ہدف 5.2 % اس لیے حاصل نہیں ہوا کہ 2014 کے مالی سال کے ہاف میں حکومت کے خلاف عمران خان اور طاہر القاری نے دھرنوں اور احتجاج کا تین مہینے تک سلسلہ برقرار رکھا۔
اس کے علاوہ سیلابوں کی وجہ سے بھی تین بڑی فصلوں کی پیداوار کا متوقع ہدف حاصل نہ ہوسکا۔ موجودہ بجٹ میں اسحق ڈار نے بجٹ خسارے کو 5 فیصد سے کم کرکے 4.3 فیصد پر لانے کا ارادہ حاصل کیا ہے مگر چونکہ یہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر کیا جاتا ہے تو اس مقصد کے لیے صوبوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بجٹ کو سر پلس بنائیں۔ گذشتہ سال صوبوں نے 183ارب روپے سرپلس بجٹ میں ظاہر کیے تو تب گزشتہ سال کا خسارہ جی ڈی پی کے پانچ فیصد تک محدود کیا جا سکا جو کہ گذشتہ سال 1422 ارب روپے خسارے کو ظاہر کرتا ہے اور اس خسارے کو ملکی اور غیر ملکی بینکوں سے قرضوں کے علاوہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کی قسطوں سے پورا کیا اس کے علاوہ ہم نے پاکستان سوشل ترقیاتی پروگرام جس کا وفاقی حجم 806ارب روپے اس کو کم کرکے اس کو 700 ارب روپے تک لے آئے تھے اور اس سال پچھلے سال کی نسبت ترقیاتی بجٹ کا وفاقی حجم 700 ارب روپے مختص کر دیا ہے جو کہ دفاعی بجٹ سے 70 ارب روپے کم ہے جس کا حجم 780 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ کے کل اخراجات کا حجم 4313 ارب روپے رکھا گیا ہے جو کہ گذشتہ سال کی نسبت 8.2 فیصد زیادہ ہے جبکہ اس بجٹ میں کل ترقیاتی بجٹ کے لیے 1514 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جس میں سے 814 ارب روپے صوبوں کے پراجیکٹس پر خرچ ہونگے اور 18ویں ترمیم کے بعد نیشنل فنانس ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو 45 ارب روپے جبکہ خیبر پختونخواہ کو 124 ارب روپے اور سندھ کو 192 ارب روپے ملیں گے جبکہ 453 ار ب روپے پنجاب خرچ کرے گا۔
اگر بجٹ کا خسارہ حکومت 4.3 فیصد تک محدود رکھے گی تو حکومت کو 1315 ارب روپے کی خسارے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی اور خسارے کی یہ سرمایہ کاری حکومت اندرونی اور بیرونی قرضوں کے ذریعے پورا کرے گی گر ہمارا اس سال کا بجٹ بھی تین بڑے اخراجات کے ارد گر د گھومتا ہے قرضوں پر ڈیٹ سرونگ جو کہ 1193 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جو کہ ہماری کل وصولیاں 44.5 فیصد ہڑپ کر جاتی ہے۔
اسحق ڈار کا کہنا کہ وہ معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے وصولیوں کو بڑھائیں گے گر اس کے لیے انہوں نے 3100 ار ب روپے کا ہدف ایف بی ا?ر کو دیا ہے جو کہ گذشتہ سال کے ہدف 2605 ارب روپے سے 19 فیصد زیادہ رکھا گیا ہے۔یہ بھی بڑا زیادہ جذباتیت پر مبنی خوش کن مصرف ہے پچھلے سال بھی ایف بی آر کو ہدف کے حصول میں ناکامی رہی ہے مگر اس سال بھی یہ ہدف بمشکل 2800 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے جب ہمارے بجٹ میں 1193ارب روپے ڈیٹ سروسنگ ، 780ارب روپے دفاع اور 1514 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونگے تو اسطرح 4313 ارب روپے کے کل اخراجات کے بجٹ میں سے ان تین مدات پر 3487 ارب خرچ ہونگے اور باقی 826 ارب سے کیسے ہم سوشل سیکٹر اور صحت ، تعلیم ، غریبوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے۔
اسحق ڈار نے اپنی تقریر میں کراچی سٹاک ایکسچینج میں 34000 پوائنٹس پر پہنچنے پر اسکومعاشی ترقی کا آئینہ قرار دیا ہے جبکہ حقیقتاً پاکستان میں سٹاک ایکسچینج میں محض سٹہ بازی کے ذریعے مالیاتی اداروں اور صنعتی ادارو ں کی قیمتوں میں اْتار چڑھاؤ سے بروکرز مافیا اربوں روپے کماتی ہے مگر اس سے حقیقی صنعتی ترقی وقو ع پذیر نہیں ہو رہی ہے کیونکہ بجلی اور گیس کے بحران کی وجہ سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ اس سے روزگار کی شرح میں اضافہ ہو اس سال ہم صحت کے لیے بجٹ میں محض جی ڈی پی کا .42 فیصد مختص کر رہے ہیں۔
اس بجٹ میں ہم وفاقی بجٹ 20.88 ارب روپے خرچ کریں گے جبکہ تعلیم کے لیے 71.5 ار ب روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں تاہم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 102 ارب روپے رکھنا ایک اچھا قدم ہے۔ HEC 20 ارب روپے کے 143 نئے پراجیکٹس شروع کرے گی کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر HEC کی بجائے پرائمری اور سکینڈری اور فنی تعلیم کے لیے اس قدر بجٹ مختص کیا جاتا۔ موجودہ بجٹ میں 15 ارب ڈالرز کی اکنامک کاریڈور کے توانائی کے منصوبے مکمل کرکے 2017 تک قومی گرڈ میں 10 ہزار میگا واٹ زائد بجلی شامل کی جائے گی یہ سارا کام چینی کمپنیاں کریں گی اور انکی بجلی حکومت ہر حال میں خریدے گی اور انہیں ادائیگیاں کرے گی۔
2017 تک 3600 میگا واٹ بجلی LNG کے ذریعے قومی گرڈ میں لائی جائے گی۔ ہر حال پر بجٹ قوی گروتھ کو بڑھانے کے لیے اہم بجٹ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان