بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجٹ16-2015 کیلئے چند تجاویز
بجٹ کی تیاریاں زوروشور سے جاری، وزیر خزانہ ہر دوسرے دن خوش خبری سناتے ہیں۔۔۔۔۔ عمدہ بجٹ کیلئے ضروری ہے کہ یہ متوازن ہو، خسارہ کم سے کم ہو، ملکی وسائل کے بہتر استعمال پر مبنی ہو
ضیاء الحق سرحدی:
آئندہ قومی بجٹ2015-16ء کی تیاری اور اسے عوام الناس کیلئے قابل قبول بنانے کیلئے سرکاری ماہرین یقینا سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ عمدہ بجٹ کیلئے ضروری ہے کہ یہ متوازن ہو، خسارہ کم سے کم ہو، ملکی وسائل کے بہتر استعمال پر مبنی ہو، بیرونی امداد اور قرضوں سے نجات اور خود کفالت کا آئینہ دار ہو۔اس کے علاوہ روزگار کے مواقع، مہنگائی کا تدارک، عام شہری پر ٹیکسوں کا کم بوجھ اور اجتماعی قومی فلاح و بہبود کے منصوبوں کا نقیب ہو۔
وفاقی وزیر خزانہ ہر دوسرے دن اہل وطن کو خوش خبری سناتے ہوئے بہتر سے بہتر مستقبل کی اْمید دلا رہے ہیں۔ پاکستانی روپے کی قدرمیں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا عندیہ اور مختلف اہم ممالک کے حکومتی وفود کی پاکستان آمد اور ان کی طرف سے قلیل المدت اور طویل المدت ترقیاتی منصوبوں میں دلچسپی یقینا بہت خوشنما اشارے ہیں۔

بجٹ تجاویز پیش کرنے سے پہلے راقم گزشتہ دور حکومت کا ایک خاکہ ضرور پیش کرنا چاہے گا۔پی پی پی کے پانچ سالہ اقتدار اور پانچ بجٹوں کے بعد اس سال موجودہ حکومت اپنا دوسرا بجٹ لے کر آرہی ہے۔مہنگائی،بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ، بد امنی اور دیگر مسائل کی وجہ سے سابقہ حکومت کے عرصہ اقتدار پر نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہر گزر تے برس کے ساتھ ملکی معیشت کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی گئی۔
گزشتہ پانچ برسوں میں معیشت کی زوال پذیری کے باوجود معاشی پالیسیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ حد تو یہ ہے کہ جمہوری حکومت نے اپنے پیش کردہ پچھلے بجٹوں میں جن اقدامات کا اعلان کیا تھا ان میں سے بھی بیشتر بروئے کار نہیں لائے گئے حتیٰ کہ سرکاری ملازمین سے بھی گزشتہ بجٹ میں کئے گئے وعدے اور تنخواہوں میں اضافے کے اعلانات دھرے کے دھرے رہ گئے۔
معاشی امور کو پرانی اور ناکام پالیسیوں ہی کے مطابق چلایا جاتا رہا۔اس بار بھی خدا خیر کرے کیونکہ بجٹ سر پر آگیا ہے۔ مختلف شعبوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ رہی سہی کسر لوڈ شیڈنگ کے عفریت نے پوری کردی۔صوبہ خیبر پختونخوا دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ ہونے کے ناطے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور پشاور سمیت ملک بھر کے عوام نے پاکستان کی بقاء کی جنگ میں اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کر کے اپنی شجاعت اور بہادری دنیا پرآشکار کردی ہے۔
اس لئے عام آدمی کو آنے والے بجٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے داد رسی کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کودو سال مکمل ہونے کو ہیں، ویسے تو موجودہ حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہوگا کیونکہ دو سال قبل مالی سال 2013-14ء کا بجٹ بھی موجودہ حکومت ہی نے پیش کیا تھا ، لیکن اس وقت کہا یہ جارہا تھا کہ یہ بجٹ گزشتہ نگران حکومت کی طرف سے بنایا گیا تھا اور وقت کی کمی کے پیش نظر موجودہ حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار چاہنے کے باوجود بھی گزشتہ سال کے بجٹ میں وہ تبدیلیاں نہ کرسکے جو مسلم لیگ (ن) کی حکومتی پالیسی کا حصہ تھی۔
لیکن اب جبکہ حکومت کو ایک دو سال مکمل ہونے کو ہیں، عوام کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی نظریں بھی آنے والے بجٹ پر لگی ہوئی ہیں۔یہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف، بالخصوص وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صلاحیتوں کا امتحان بھی ہے۔ بجٹ حکومت کی کارکردگی کا پول بھی کھولے گا۔ دیکھیں حکومت بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرے گی یا پھر وہی روایتی قسم کا بجٹ ہوگا، جس کے متعلق اپوزیشن ہمیشہ کہتی چلی آئی ہے کہ یہ الفاظ اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے ایک سالہ دور حکومت میں ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے جو اصلاحات کیں، وہ قابل تعریف ہیں بالخصوص توانائی بحران کے خاتمے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے مختلف ممالک کے ساتھ جو معاہدے کئے گئے ، اس کے اثرات آئندہ مالی سال میں دکھائی دینا شروع ہوجائیں گے لیکن اس وقت عوام فوری طور پر ریلیف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد ہے اور یہ کسی چیز کی تیاری کے ہر مرحلے پر اور اس میں شامل تمام اشیاء پر الگ الگ وصول کیا جاتا ہے جو ملک میں مہنگائی کی ایک بنیادی وجہ ہے۔موجودہ مالی سال میں جی ایس ٹی سے قومی خزانے کو سات فیصد سنگل اسٹیج ٹیکس کے نفاذ سے 1500سے 1700ارب روپے کا سیلزٹیکس مل سکتا ہے۔جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ دس فیصد کم ہوسکتا ہے نیز اس سے کرپشن کے وہ تمام راستے بھی بند ہوسکتے ہیں جنہیں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے موجودہ نظام میں بند کرنا بہت دشوار ہے۔
اسے قابل عمل بنا کر عام آدمی کو مہنگائی کے ناقابل برداشت بوجھ سے نجات دلانے کی ہر ممکن کوشش کی جاسکتی ہے۔
موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو معاشی صورتحال کے بہتری کے حوالے سے فطری طور پر کچھ وقت درکار تھا۔ اس دوران روپے کی قدر میں گراوٹ کا رجحان بھی جاری رہا اور ایک ڈالر ایک سو گیارہ پاکستانی روپوں کے برابر ہوگیا۔ لیکن اس کے بعد موجودہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہوا اور پاکستانی سکے کی قدر تیزی سے بڑھی اور آج ڈالر کی قیمت 103 روپے کے آس پاس مستحکم نظر آتی ہے۔
پاکستانی سکے کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے لیکن بہت تیزی سے ایسا ہونا ملکی برآمدات کیلئے منفی نتائج کا سبب بنے گا۔ اس وقت ملک کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے ان میں لوڈ شیڈنگ، بڑھتی ہوئی گرانی اور غربت سرفہرست ہیں۔ جبکہ دوسری جانب اعلیٰ حکمران فضول خرچیوں سے باز ہی نہیں آتے گزشتہ دور حکومت میں سرکاری اخراجات میں روز بروز اضافہ کیا گیا۔
ایوان ہائے صدر و وزیراعظم کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کر دئیے جاتے ہیں۔ ان کی قیام گاہوں کے ماہانہ اخراجات بھی کروڑوں روپے سے کم نہیں۔ یہی حال وزیروں، مشیروں اور افسروں کا ہے وہ بھی دل کھول کر عیاشیاں کرنے کیلئے آزاد ہیں۔
مہنگائی کے اس دور میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہایت ضروری ہے۔
کیونکہ مہنگائی جس تناسب سے روزانہ بڑھ رہی ہے اور سرکاری ملازمین کا ان قلیل تنخواہوں میں گزارہ ممکن نہیں۔اس موقع پر یہ بھی ضروری ہے کہ ریٹائرڈ افراد اور خاص طور پر ای او بی آئی کے پنشنروں کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اس وقت انہیں گزر اوقات کیلئے جس قدر رقم دی جا رہی ہے وہ انتہائی قلیل ہے۔حکومت کو چاہئے کہ جہاں ایک طرف وہ بجٹ بناتے وقت لوگوں کی آمدن میں خاطر خواہ اضافے کیلئے ٹھوس پالیسی وضع کرے وہاں ذخیرہ اندوزوں اور ناجائزمنافع خوروں کے ہاتھ روکنے کیلئے بھی کوئی فورس قائم کرے اگر گرانی پر قابو پالیا جائے۔
آئندہ بجٹ تاجر دوست ہونا چاہئے، حکومت بجٹ میں تاجروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات فراہم کرے اور ٹیکسوں کی شرح کو کم کرے جس میں سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنا انتہائی ضروری ہے،۔سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کر کے 10فیصد تک لایا جائے۔وہ اشیاء جو سمگل ہوکر پاکستان غیر قانونی طور پر آتی ہیں ان پر سختی کی جائے اور اشیاء پر ڈیوٹیاں کم کی جائیں تاکہ قانونی طریقے سے یہ مال امپورٹ ہواور سرکاری خزانے میں بھی کروڑوں روپے وصول ہوں۔
افغانستان کے راستے جیمز اور خاص کر لاجورٹنوں کے حساب سے ٹرانزٹ ٹریڈ کی شکل میں آتا ہے۔ تجویز ہے کہ اگر لاجور طورخم کے راستے امپورٹ اور اس پر سیلز ٹیکس کو ختم کر دیا جائے تو یہ لاجور پاکستان سے ویلیوایڈڈ ہوکر آگے ایکسپورٹ ہوسکتا ہے اور اس اقدام سے لاکھوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔بجٹ کی تیاری کے حوالے سے تاجروں ، صنعت کاروں، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) اور دیگر شہروں کے پرائم چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے جو تجاویز موصول ہوں ان پر کسی حد تک عملدرآمد ضرور کیا جائے کیونکہ چیمبرز نہایت محنت اور خلوص نیت سے بجٹ کیلئے یہ تجاویز تیار کرتے ہیں۔

ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن، لاقانونیت، غنڈہ گردی، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی بڑی وجہ بے روزگاری کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ہے، اب تو غریب آدمی ایک طرف ایک گریڈ 17یا 18میں کام کر نے والا ایماندار افسر بھی اپنا مکان نہیں بنا سکتا، اگر وہ کسی طرح زمین خرید لیتا ہے تو مکان بنانا اس کے لئے ”جوئے شیر لانے کے مترادف“ہوتا ہے۔اس وقت ملک کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے، لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ آنے والے بجٹ میں انہیں گھر بنانے کیلئے بلا سود قرضے فراہم کرے، اور یوٹیلٹی بلوں میں خصوصی رعایت دی جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-21

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان