بند کریں
جمعہ جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بھاری بھر کم اخراجات کا تخمینہ محاصل کا جمع ہونا چیلنج
حکومت کے وسائل کا سارا دارومدار ٹیکس آمدنی پر ہے رواں مالی سال کے بجٹ کو جب پیش کیا گیا تو اس میں حکومت نے ایف بی آر کے لئے ٹیکس وصولی کا ہدف 2810 ارب روپے دیا تھا جسے حاصل کرنے میں ایف بی آر ناکام رہا
احسن صدیق
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16 کے لئے اپنا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں رواں مالی سال کے لئے پیش کئے جانے والے بجٹ کی طرح بلند و بانگ دعوے کئے گئے ہیں لیکن آئیندہ مالی سال کے لئے پیش کئے جانے والے بجٹ اور رواں مال سال کے بجٹ میں ایک چیز مشترک ہے کہ دونوں بجٹ خسارے کے ہیں یعنی حکومت نے جو بجٹ پیش کئے ان کو پورا کرنے کے لئے حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔
حکومت کے وسائل کا سارا دارومدار ٹیکس آمدنی پر ہے رواں مالی سال کے بجٹ کو جب پیش کیا گیا تو اس میں حکومت نے ایف بی آر کے لئے ٹیکس وصولی کا ہدف 2810 ارب روپے دیا تھا جسے حاصل کرنے میں ایف بی آر ناکام رہا جس پر حکومت کو رواں مالی سال کے لئے ٹیکس وصولی کے ہدف پر نظر ثانی کرنی پڑی اور اس کا حجم 2810 ارب روپے سے کم کر کے 2605 ارب روپے کر دیا گیا یہ حجم 30 جون 2015 تک پورا کرنا بھی ایف بی آر کے لئے ایک چیلنج ہے آئندہ مالی سال کے لئے وفاقی حکومت نے ٹیکس وصولی کا ہدف 3103.7 ارب روپے مقرر کیا ہے جو رواں مالی سال کے لئے ٹیکس وصولی کے نظر ثانی شدہ صرف 2605 ارب روپے کے مقابلے میں 498.7 ارب روپے زائد ہے۔
اب پھر وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایف بی آر یہ ہدف پورا کرے گا یا پھر حکومت کو اس پر نظر ثانی کر کے اس میں کٹوتی کرنی پڑے گی۔ حکومت کو جب اپنے بجٹ کے مطابق آمدنی نہیں ہوتی تو اسے ملک میں بنکینگ سیکٹر سے اور آئی ایم ایف سے قرضے لے کر اپنا بجٹ خسارہ پورا کرنا پڑتا ہے ملکی سطح پر بینکنگ سیکٹر سے حاصل کئے جانے والے قرضے کی واپسی پر حکومت کو اصل رقم کے ساتھ ساتھ سود ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ آئی ایم ایف سے لئے جانے والے قرضے کڑی شرائط پر ملتے ہیں جس میں گیس بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ اور دیگر کڑی شرائط شامل ہوتی ہیں۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ کا جائزہ لینے سے قبل پہلے رواں مالی سال کے بجٹ کا جائزہ پیش خدمت ہے رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 5.1 فیصد مقرر کیا تھا لیکن اس کے مقابلے میں 4.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ ہوئی۔ اس طرح برآمدات، لارج سکیل، مینو فیکچرنگ، ٹیکس وصولیاں، کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ، مالیاتی خسارہ میں کمی سمیت بیشتر اقتصادی اہداف حاصل نہیں ہو سکے تا ہم زیادہ تر اقتصادی اشارئیے گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں بہتر رہے ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

مالی سال 2015 -16 کے لئے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 4451.3 ارب روپے ہے جس میں وفاقی میزانیہ کا حجم 4089 ارب روپے ہے بجٹ میں 4.3فیصد کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے جو 13 سو ارب روپے سے زائد بنتاہے۔ بجٹ میں 253.2ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات کیے گئے ہیں جن میں کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 41.9ارب روپے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز میں 54ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں 142.2ارب روپے کے ٹیکس اقدامات کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں اٹھائے گئے ٹیکس اقدامات کی وجہ سے سگریٹ ، مشروبات ،موبائل فونز ، ڈیری مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی ۔ بجلی کے بلوں کا ود ہولڈنگ ٹیکس کے لئے تھریش ہولڈایک لاکھ سے کم کر کے 75ہزار روپے کیا گیا ہے۔زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بل کے ساتھ یہ ودہولدنگ ٹیکس دینا ہوگا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کو جاری بنیادی تنخواہ میں 7.5فیصد کا اضافہ ایڈہاک ریلیف کی مد میں دیا گیا ہے جبکہ ملازمین کو 2011-اور 2012ملنے میں ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم کردئیے گئے ہیں ۔
سرکاری ملازمین کے میڈیکل الاونس میں 25فیصد اضافہ کردیا گیا ہے مزدوروں کے لئے کم سے کم معاوضہ کو بارہ ہزار سے بڑھا کر تیرہ ہزار روپے ماہانہ کردیا گیا ہے وفاقی سطح کے تمام پنشنرز کی پنشن میں 7.5فیصد کیا گیا ہے پنشنزز کے میڈکل الاونس کو بھی 25فیصد بڑھا دیا گیا ہے پنشنرز اور سنیئر شہریوں کے لئے قومی بچت کی بہبود سکیم میں سرمایہ کاری کی حد 30لاکھ روپے سے بڑھا کر 40 فیصد کردی گئی ہے۔
شرح سود میں کمی سے حکومت اور بنکوں سے قرضے لینے والوں کو تو فائدہ ہو گا لیکن بنکوں کے کھاتے داروں کو ٹیکس کاٹنے کے بعد صرف 6 فیصد سالانہ منافع ملے گا۔ اسی طرح قومی بچت میں سرمایہ کاری کرنیوالے بھی متاثر ہوں گے۔ اسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پر رقوم بڑھائی گئی ہیں مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس پروگرام کو مائیکروفنانس سے منسلک کر دیا جاتا۔

وفاقی بجٹ میں کرنٹ اخراجات کے لئے 3166ارب روپے ، سود کی ادائیگی کے لئے 1280ارب ، پنشن کے لئے 231ارب ، سبسڈیز کے لئے 180ارب روپے مختص کردئیے گئے ہیں۔ جبکہ آمدن کا مجموعی ہدف 3418ارب روپے رکھا گیا ہے۔ جن میں ایف بی آر کے ٹیکسوں کا ہدف 3104ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ وفاقی محاصل میں 283ارب روپے بینکوں سے قرض کی صورت میں شامل کیے جائیں گے اور نجکاری کے سودوں سے 50ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال کے دورانیے میں بیرونی ترسیلات پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے حالانکہ یہ حقیقت سب کو معلوم ہے کہ ہنڈی کے ذریعے رقم باہر بھیج کر ترسیلات منگوائی جاتی ہیں جس سے صحیح معنوں میں ٹیکس وصولی کبھی نہیں ہو سکتی۔
آئندہ بجٹ کے دوران پنجاب کو قابل تقسیم محاصل کے پول میں سے 894ارب روپے ، سندھ کو 482ارب، کے پی کے 300ارب اور بلوچستان کو 171ارب روپے منتقل ہو نگے اس طرح وفاقی محاصل میں صوبوں کا حصہ 1849ارب روپے ہو گا۔
حکومت آ ئندہ مالی سال کے دوران 137ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی جس میں سے کے الیکٹرک 20ارب یوٹیلٹی سٹورز 7ارب ، پاسکو کو 11ارب ، آئل ریفائنریز کو 1ارب فاٹا میں گندم کی فروخت کے لئے 30کروڑ روپے کی مراعات دی جائیں گی۔اس سال رائس ملز کو ریلیف دیا گیا ہے ان اداروں کو ٹیکس سال 2015کے تحت کم سے کم ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ مچھلی کی سپلائی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔
سولر اور وینڈ انرجی۔آلات کی ملک کے اندر تیاری پر پانچ سال کے انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔
سیلز ٹیکس کی مد میں جو اہم اقدامات کیے گئے ہیں ان کے تحت سٹیل ، ری رولرز اور شپ بریکرز پر جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ موبائل فونز سیٹ پر بھی ڈیوٹی بڑھادی گئی ہے۔ ڈیری مصنوعات پر جی ایس ٹی کی زیرو ریٹنگ کو صرف بے بی ملک تک محدود کردیا گیا ہے۔
جس سے ڈیری مصنو عات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگاسگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 58فیصد سے بڑھا کر 63فیصد کر دی گئی ہے او ر سگریٹ کے فلٹر راڈ پر 75پیسے فی فلٹر راڈ ایڈجسٹیبل فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔ بیوریجز /مشروبات Treated waterپر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 9فیصد سے بڑھا کر 12فیصد کردی گئی ہے برآمدی سیکٹر کے لئے اس وقت سیلز ٹیکس کی شرح دو فیصد تین فیصد اور پانچ فیصد ہے۔
2018تک قائم ہونے والے بجلی کے ٹرانسمیشن منصوبوں پر دس سال تک انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔ شیئر ز میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے انفرادی سرمایہ کار کو ٹیکس کریڈٹ دینے کے لئے سرمایہ کاری کی حد کو بڑھا کر 15لاکھ کر دیا گیا ہے اور لسٹ میں درج کمپنیوں کیلئے پندرہ فیصد کا ٹیکس کریڈٹ اضافہ کرکے بیس فیصد کردیا گیا ہے۔ اس وقت تنخواہ دار طبقے جن کی آمدن چار سے پانچ لاکھ روپے ہے ان پر پانچ فیصد انکم ٹیکس عائد ہے۔
اس طبقہ کو ریلیف دینے کے لئے ٹیکس کی شرح میں تین فیصد کمی کر کے اسے دو فیصد کردیا گیا ہے جبکہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان ، ایسوسی ایشنز آف پرسنز جن کی ٹیکس ایبل آمدن چار سے پانچ لاکھ سالانہ ہے دس فیصد انکم ٹیکس عائد ہے اسے گھٹا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔ شیئر ز پر کیپٹل ٹیکس کی شرحوں پر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس ٹیکس کی شرح دس فیصد ہے جسے بڑھا کر ساڑھے بارہ فیصد کردیا گیا ہے۔
تمام بینکنگ انسٹرومنٹس اور بینکوں کے ذریعے فنڈز کی منتقلی کے تمام طریقوں پر انکم ٹیکس کے گوشوارے داخل نہ کروانے والوں کے لئے 0.6فیصد کے مساوی ایڈوانس انکم ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔ ڈیوڈینڈسے آمدن پر ٹیکس کی شرحوں کو دس فیصد سے بڑھا کر ساڑھے بارہ فیصد کیا گیا ہے۔ تاہم نان فائلرز کے لئے ٹیکس کی شرح پندرہ فیصد ہے جسے بڑھا کر ساڑھے سترہ فیصد کردیا گیا ہے۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ایڈورٹائز نگ سروسز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی گئی ہے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو ایڈورٹائزنگ سروسز کی مد میں ادائیگی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ بھی ختم کردی گئی ہے۔ایکسچینج کمپنیوں پر بینکوں سے کیش نکلوانے پر 0.15فیصد کے مساوی ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔نئے مالی سال میں ٹیکس بڑھانے کے لئے 7 اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔
دکانداروں پر 0.1 فیصد ایڈوانس ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ ٹیکس گوشوارے داخل نہ کرنے والوں پر تین فیصد اضافی ٹیکس لگا دیا گیا۔ گویا ٹیکس سے بچائے گئے ان کے منافع پر 35 فیصد ٹیکس لگے گا۔ کسٹم ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 25 سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی۔ بچوں کے خشک دودھ پر ٹیکس ختم کرنا اچھی تجویز ہے۔ 500 افراد کو ملازمت دینے والی دودھ بنانیوالی کمپنیوں کو ٹیکس میں 10 فیصد تک رعایت دی جائیگی اس طرح فیکٹریوں میں ملازمین کو روز گا ر کا تحفط حاصل ہو گا۔
چاول کی ملوں کو اگلے سال کے لئے ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔ مچھلی کی سپلائی پر ٹیکس میں چھوٹ دے دی گئی۔ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے مالدار افراد اور کمپنیوں پر ون ٹائم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت ٹیکس میں رعایت کا اختیار فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے لیکر پارلیمنٹ کو دے ر ہی ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری پر ٹیکس کریڈٹ کی حد 10 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ کر دی گئی ہے۔
50 کروڑ سالانہ منافع سے زیادہ کمانے والی کمپنیاں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے اپنی آمدن پر صرف ایک مرتبہ تین فیصد ٹیکس دیں گی۔
حکومت نے آئندہ مالی سال میں توانائی کے منصوبوں کیلئے دو کھرب 48 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ دسمبر 2017ء تک ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے۔ اسی طرح پانی و بجلی کے منصوبوں کیلئے30ارب 12 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے ، ان میں دیامر بھاشا ڈیم سب سے نمایاں ہے جو پاکستان کے مستقبل کیلئے نہایت اہم ہے ، اس میں 4.7 ملین ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ کرنے اور 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے صلاحیت ہے۔ اس سال ڈیم کیلئے زمین حاصل کرنے کیلئے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں پانی کے منصوبے حکومت کی دوسری اہم ترجیح ہیں جس کے تحت فلڈ ڈسپرسل سٹرکچر ، ڈیلے ایکشن ڈیم ، نہروں اور پانی ذخیرہ کرنے والے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔
۔ قومی تعلیمی پالیسی 2009ء میں اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جون 2013ء میں اعلان کیا تھا کہ 2015ء میں تعلیم کی مد میں جی ڈی پی کا 7 فیصد خرچ کیا جائیگا لیکن تعلیم کی مد میں وفاق اور صوبے 1300 ارب روپے سے کم مختص کریں گے۔ اس طرح لاکھوں لوگوں کو 100 ارب روپے کی بجائے رزق حلال کمانے کیلئے 400 ارب روپے ملتے، یہ فیصلہ اب بھی ہو سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-16

(0) ووٹ وصول ہوئے