بند کریں
پیر جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عوام کو بجلی کا جھٹکا
مہنگائی کی نئی لہر۔۔۔۔۔ مہنگائی اگرچہ ہر دور میں ہوتی رہی ہے مگر کچھ عرصہ سے جس تیز رفتاری سے اس میں اضافہ ہوا‘ اس نے غریب کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ عید کے بعد سے اب تک مہنگائی کا سلسلہ جاری ہے۔
خالد یزدانی:
وقت جتنی تیزی سے گزر رہا ہے‘ وطن عزیز میں مہنگائی بھی اسی تیزرفتاری سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اگرچہ انتخابات کے موقع پر غریب عوام سے تمام سیاسی جماعتیں دلفریب نعرے اور سنہرے خواب دکھاتی ہیں مگر وہی جماعتیں برسراقتدا ر آکر ان تمام وعدوں کو پس پشت ڈال دیتی ہیں۔ ایوب دور حکومت میں آٹا کی قیمت میں چند پیسے اضافہ ہوا تھاجس نے عوام کو احتجاج پر مجبور کر دیا تھا۔
بعدازاں بھٹو دور میں راشن کارڈ کے ذریعے ڈپووں سے آ ٹا اور چینی بازار کی نسبت کم قیمت پر ملنے لگی تھی مگر ضرور یات زندگی کی چیزیں عوام کی قوت خرید سے بڑ ھتی ہی رہی تھیں جبکہ ضیاء الحق دور میں بھی مہنگائی پر قابو نہ پایا جا سکا اور بینظیر بھٹو اور نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے ادوار میں عوام کو مختلف اشیاء پر سبسڈی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
مگر بجلی‘ گیس اور اشیائے ضروریہ کی مانگ میں اضافہ کے ساتھ ان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا اور غریب پر زیادہ بوجھ پڑا۔ لوڈشیڈنگ بجلی کی ہو یا گیس کی‘ اب اس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اگرچہ حکومت عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے گاہے بگاہے اقدامات کرتی رہتی ہے مگر آج صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف آبادی میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف مہنگائی بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
حال ہی میں 45 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اضافہ کرکے عوام کو جھٹکا دیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ آج بجلی‘ گیس‘ سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کی نئی لہر آجاتی ہے کیونکہ اس سے عام آدمی یعنی غریب اور متوسط طبقہ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
مہنگائی اگرچہ ہر دور میں ہوتی رہی ہے مگر کچھ عرصہ سے جس تیز رفتاری سے اس میں اضافہ ہوا‘ اس نے غریب کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔
تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود مہنگائی روز افزوں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ رمضان المبارک کے ماہ میں اگرچہ رمضان بازاروں میں مقررہ قیمتوں پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی گئی مگر وہ محدود سطح پر تھی جبکہ سبزیوں‘ پھلوں اور دیگر اشیاء کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر تھیں۔ عید کے بعد سے اب تک مہنگائی کا سلسلہ جاری ہے۔ گوشت تو عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے۔
اب تو دال اور سبزیاں فی کلو سو روپے سے زائد پر فروخت ہو رہی ہیں۔ اس سلسلے میں عام دکانداروں کا موٴقف ہے کہ منڈیوں سے جس نرخ پر اشیاء ملتی ہیں‘ ہم اس تناسب سے اس میں اپنا منافع شامل کرکے فروخت کرتے ہیں۔ دراصل اب ذرائع آمدورفت مہنگے ہونے سے بھی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی پھل سرگودھا سے یا سبزی اوکاڑہ کے گردونواح سے آئے گی تو اسے بڑے بڑے شہروں کی منڈیوں تک پہنچانے میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی دینے پڑتے ہیں اور ایک بزرگ شہری نے بتایا کہ اشیاء کی قیمت میں بڑھوتری کی ایک وجہ آبادی میں اضافہ ہے تو دوسری طرف عالمی مالیاتی اداروں کے کردار کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔
ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ لاہور کی مثال لے لیں‘ ساٹھ ستر کی دہائی میں زیادہ تر اشیاء یعنی سبزیاں لاہور کے قرب و جوار ہی میں اگائی جاتی تھیں۔ علامہ اقبال ٹاؤن ہو یا ملتان روڈ کے دونوں جانب علاقے ‘ جہاں ہریالی ہی ہریالی تھی۔ آج لاہور کی آبادی پھیلتی جا رہی ہے‘ اب لاہور کے چاروں طرف نئی آبادیوں کی یلغار ہے اور یوں روزمرہ استعمال ہونے والی تازہ سبزیاں جو بیل گاڑیوں‘ ریڑھوں پر برائے نام کرایہ پر شہر میں پہنچ جاتی تھیں اب ان کو دور دراز سے لانا پڑتا ہے جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا اور اس کا بوجھ خریدار ہی جیب پر پڑتا ہے جبکہ یہ بھی سچ ہے کہ جب بھی حکومت یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ کرتی ہے تو اس کا اثر سب اشیاء پر پڑتا ہے اور اسی وقت قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور آج تو صورتحال اتنی دگرگوں ہے کہ ایک ہی اشیاء کی قیمتیں دکاندار ہو یا چھابڑی فروش‘ اس میں یکسانیت نہیں جس کا جہاں داؤ لگ جائے‘ وہ عوام کو لوٹنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج صبح اشیاء کی قیمتیں اور ہوتی ہیں جبکہ سرشام وہ اس اشیاء کو کم قیمت پر فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر مہنگائی نے آج غریب آدمی کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے۔ غریب اپنے بچوں کو فروخت کرنے کیلئے بازار میں لے آیا ہے اور اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ کوئی ماں اپنے لخت جگر کو دو وقت کی روٹی کیلئے کسی اور کے سپرد کررہی ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے اور حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہونگے کہ غریب کو دو وقت کی روٹی تو بآسانی میسر ہو۔

مہنگائی روکنے اور لوگوں کو اشیائے خورودونوش مقررہ نرخوں پر پہنچانے کے سلسلے میں ضلعی سطح پر ڈی پی او اور دیگر ادارے وقتاً فوقتاً اقدامات کرتے رہتے ہیں۔ دکانداروں کو نر خنامے نمایاں جگہ لگانے کی ہدایات بھی ہوتی ہیں اور گراں فروشوں کے خلاف اقدامات بھی کئے جاتے ہیں مگر دکاندار شکوہ کرتے ہیں کہ منڈی سے ہی اگر اشیاء مہنگی ملیں گی تو ہم کیا کریں۔
حکومتی ادارے وہاں کارروائی کرنے کی بجائے چھوٹے دکانداروں کو پکڑتے ہیں۔
مہنگائی کم کرنے کے سلسلے میں ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں اتوار بازاروں کے ساتھ منگل‘ بدھ اور جمعرات بازار بھی لگائے جاتے ہیں جہاں بازاروں کی نسبت خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے اور صوبائی وزیر خوراک اور دیگر سرکاری افسران ان بازاروں میں فروخت ہونے والی اشیاء کے معیار اور قیمت کا بھی جائزہ لیتے رہتے ہیں مگر وہاں خریداری کیلئے جانے والوں کو عموماً شکایت رہتی ہے کہ وہاں اگر کوئی سبزی‘ فروٹ سستا فروخت ہوتا ہے تو وہ اچھی کوالٹی کا نہیں ہوتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ سب کو اس سے فائدہ ہواور ایساکرنے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-30

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان