بند کریں
جمعہ فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آمدہ بجٹ اور کالا باغ ڈیم
2007ء میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نوشہرہ کے ڈوب جانے اور بدترین تباہ کاریوں پر اعتراف کیا تھا کہ اگر کالاباغ ڈیم تعمیر کر لیا گیا ہوتا
احمد جمال نظامی:
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر دوسری مر تبہ آل پارٹیز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کا متفق ہونا خوش آئند بات ہے۔ حکومت کی طرف سے صنعتوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے کسی حد تک مستثنیٰ قرار دینا اور بعض صنعتوں کے لئے لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں کمی کرتے ہوئے شیڈول کا وضع کرنا بھی ایک اہم اقدام ہے۔لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی طرح توانائی بحران کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو کالا باغ ڈیم پر بھی اعتماد میں لے اور اس قومی ایشو پر مکمل طور پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
2007ء میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نوشہرہ کے ڈوب جانے اور بدترین تباہ کاریوں پر اعتراف کیا تھا کہ اگر کالاباغ ڈیم تعمیر کر لیا گیا ہوتا تو اس قدر سیلاب کی تباہ کاریاں برپا نہ ہوتیں۔ کالاباغ ڈیم ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے کس قدر ضروری ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ ان دنوں ایک مرتبہ پھر موسم گرما میں بجلی کی صبرآزما لوڈشیڈنگ سے لگایا جا سکتا ہے۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ نے تمام نظام زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے اور گیارہ مئی 2013ء کے عام انتخابات سے پہلے جس طرح لوڈشیڈنگ ہوا کرتی تھی اسی انداز میں بالترتیب اور بالواسطہ ہر علاقے میں ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کے لئے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب عوامی اور صنعتی و تجارتی، زرعی حلقوں کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ ایک بات تمام تر تحقیق اور عالمی تجربات کے بعد اظہرمن الشمس کی طرح روشن ہو چکی ہے کہ آبی ذخائر سے حاصل ہونے والی بجلی کسی بھی دوسرے ذرائع سے سستی ترین ہوسکتی۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت مقبوضہ کشمیر میں 62 سے زائد چھوٹے بڑے ڈیمز جن میں بگلیہار ڈیم بھی شامل ہے کو اپنے لئے استعمال میں لا رہا ہے۔ جس کا دوسرا مقصد پاکستان کو بنجر بنا کر ایتھوپیا اور صومالیہ جیسے قحط زدہ ممالک میں تبدیل کرنا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم اور تمام حکومتی ذمہ داران بجلی کے بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں اور اس بارے میں سنجیدہ بھی ہیں جس طرح قائداعظم سولرپارک کے منصوبے کا گذشتہ کئی دنوں سے چرچا کیا جا رہا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ وزیراعظم سمیت تمام حکومتی ذمہ داران کالاباغ ڈیم کی تعمیر شروع کرنے سے کنی کتراتے ہیں۔ دراصل کالاباغ ڈیم کے بارے میں ایسی باتیں متعدد مرتبہ سامنے آ چکی ہیں کہ پاکستان کی ترقی کو روکنے کے لئے بھارت اور دیگر غیرملکی طاقتیں اس کی تعمیر کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر اختلافات اور اعتراضات بھی محض اسی تناظر میں دیکھے جا سکتے ہیں اس کے علاوہ ایسا کوئی نکتہ یا بات نظر نہیں آتی تھی جس کی بناء پر قومی ترقی کے اس منصوبے کی مخالفت کی جائے۔
اس منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ تو برا ہ راست بلوچستان کو ہو گا، پھر سندھ بھی مستفید ہو گا جب بن قاسم پورٹ کے ساتھ گوادر سے چین کے صوبہ کاشغر کو جانے والی شاہراہ کو آپس میں جوڑا جا رہا ہے تو اس سے لامحالہ سندھ کو بیش بہا فوائد حاصل ہوں گے۔ اس حقیقت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1990ء کی دہائی کے بعد تمام صنعتوں کا جال پنجاب کی طرف ہے اور بن قاسم پورٹ کو اگر انٹرنیشنل معیار کی موٹروے کے تحت اس سے جوڑا جاتا ہے تو اس کا تمام تر فائدہ سندھ کو ہو گا۔
کراچی کے بن قاسم پورٹ پر صنعتوں کے جال سے پورے سندھ کے لوگ نوجوان ہاری ، مزارعے اور مزدور ان صنعتوں میں روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کی زندگی میں خوشحالی آ سکے گی اور روشنیوں کے شہر کراچی کو جس طرح اسلحہ سے پاک کرنے کے لئے آپریشن جاری ہے اس سے حالات مزید بہتری کی طرف گامزن ہو سکیں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ فائدہ ہو گا کہ گوادر بندرگاہ کے چالو ہونے کے بعد بھی کراچی پورٹ کی اہمیت کم نہیں ہو گی بلکہ بن قاسم سے گوادر کو جانے والی شاہراہ کو استعمال میں لاتے ہوئے کراچی پورٹ کی اہمیت کو بھی مزید بڑھایا جا سکے گا۔
جب اس شاہراہ کے ذریعے لنک بڑھے گا اور استعمال میں آئے گا تو اس صورت میں کراچی پورٹ کی اہمیت مزید بڑھائی جا سکے گی۔ اس بارے میں کراچی کے صنعت کاروں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے رائے عامہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کی بات کریں تو پہلے ہی وفاق کے تحت ہر سرکاری محکمے اور شعبے میں ان کا ایک مخصوص کوٹہ ہے اگر بلوچستان حکومت بلوچستان کے لوگوں سے مخلص ہے تو اسے چاہیے کہ وہ قومی اہمیت کے منصوبے پر بلاجواز اعتراضات اور عدم اتفاق کر کے اپنی پوزیشن خراب کرنے کی بجائے حکومت پر زور ڈالے کہ گوادر بندرگاہ کے بارے میں جو پہلے بلوچستان کے عوام کو روزگار فراہم کرنے کے لئے کوٹہ مقرر کیا گیا تھا ۔
ان محکمہ جات میں بلوچستان کے خصوصی کوٹہ میں توسیع کا مطالبہ کیا جائے۔ اس توسیع کے تحت گوادر بندرگاہ میں بلوچستان کو لینڈ ہاوٴس ہونے کی بناء پر قانون سازی اگر درکار ہو یا وزیراعظم کے احکامات کی کافی ہوں ان کے مطابق ان کے کوٹے میں فی البدیہہ اضافہ کیا جائے۔ دراصل ہمارے ملک میں ایشوز کو ایشو کے طور پر ہینڈل کرنے کا رواج ختم ہو چکا ہے اور صرف تنقید برائے تنقید کے فارمولے پر کام کرتے ہوئے مسائل کو مزید بڑھاوا دیا جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کا یہ کام نہیں کہ وہ صرف اپنی انا اور سیاسی دکانداری کے لئے قومی راہداری اور کالاباغ ڈیم جیسے اہم ترین قومی نوعیت کے منصوبوں کو سبوتاڑ کرنے کے درپر ہو جائیں۔ کالاباغ ڈیم آج بھی ماضی کے سالوں کی طرح ازبس ضروری ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اگر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر اسفندیارولی تک کو اعتماد میں لے سکتے ہیں تو کالاباغ ڈیم کے منصوبے پر بھی ان کو اعتماد میں لینا زیادہ مشکل کام نہیں۔
توانائی ذرائع کے دیگر منصوبوں پر بھی تیزی سے کام جاری رہنا چاہیے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے اس سال آمدہ بجٹ میں ایک مرتبہ پھر گذشتہ کئی سالوں کے وفاقی بجٹ کی طرح بھاری بھر کم فنڈ مختص کئے جائیں گے۔ ان کو ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ بھی نتھی کیا جائے گا اور پھر کبھی ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تاخیری حربے سامنے آئیں گے اور کبھی حکومت اس منصوبے پر لیت و لعل سے کام لیتی رہے گی۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم کالاباغ ڈیم کے ایشو پر بھی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کر کے اس کے لئے راہ ہموار کرے اور اس منصوبے کا نام پر اگر کسی کو اعتراض ہو تو بے شک اسے تبدیل کر کے قومی ڈیم کا نام دے دیا جائے۔ آمدہ بجٹ میں تمام آبی ذخائر اور کالاباغ ڈیم کے لئے فنڈ مختص کرنے کی ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-02

(2) ووٹ وصول ہوئے