بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عالمی مالیاتی ادارے
کیا پاکستان ان کی غلامی سے آزاد ہوسکتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔مہنگائی، غربت، بیروگاری یہ سب وہ عوامل ہیں جو ہماری دگرگوں معیشت کی واضح تصویر کشی کررہے ہیں۔ اور اس کی وجہ اندرونی و بیرونی قرضوں کا وہ بوجھ ہے
غلام ذہرا:
مہنگائی، غربت اور ملکی معیشت میں عدم توازن کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض ہے، لہٰذا ملک کے معاشی فیصلوں وار بجٹ بنانے میں عالمی مالیاتی اداروں کا عمل دخل بڑھ چکا ہے۔ کڑی شرائط پر قرضہ حاصل کر کے عوام کو فاقوں پر مجبور کیا جارہا ہے۔ موجودہ حالت میں یہ وضح ہوتا ہے کہ آئندہ کئی برسوں تک بھی حکومت آئی ایم ایف سمیت ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوضوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے گا۔
اس کیلئے حکومت کو ٹھوس اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
بزنس مین اپنے کاروبار میں خسارے کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ خاتون کانہ شوہر کو وقت پر تنخواہ نہ ملنے کے باعث بجلی کا بل اور بچوں کی سکول کی فیس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے پریشان ہے۔ دیہاڑی دار اور مزدور کے بچوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔ لوگ غربت کے باعث اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
بعض فکر و فاقہ سے نجات پانے کیلئے بچوں سمیت خود کشی پر مجبور ہیں۔ پڑھے لکھے نوجوان ملازمت کے حصول کیلئے اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہیں۔ بہت سے مایوس ہو کر بیرون ملک جانے کا سوچتے ہیں۔
مہنگائی، غربت، بیروگاری یہ سب وہ عوامل ہیں جو ہماری دگرگوں معیشت کی واضح تصویر کشی کررہے ہیں۔ اور اس کی وجہ اندرونی و بیرونی قرضوں کا وہ بوجھ ہے جو ناقابل برداشت حدوں کو چھورہا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے معیشت کی افزائش صفر ہے۔ درحقیقت ملک میں معاشی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ ہماری حکومتوں کے معاشی فیصلے اور بجٹ بنانے میں عالمی مالیاتی اداروں کا حمل دخل ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ پاکستان آئی ا یم ایف اور ورلڈ بینک کا مقروض ہے۔ ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے چارٹرز پر دستخط کیے ہوئے ہیں لیکن قرضے اور معاہدے عوام کو فاق کشی اور خود کشی پر مجبور کردیں تو ایسے معاہدوں اور قرضوں کا کیا فائدہ۔

شاید یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، جب گزشتہ برس حکومت نے معمولی سے معمولی چیز پر بھی ٹیکس عائد کردئیے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ آئی ایم ایف کو قرض کی ادائیگی کیلئے حکومت کو یہ آسان لگا جس کی لپیٹ میں عوام کو لے لیا گیا۔ عوام نے حسب معمول چند دن آہ وبکا کی اور پھر چُپ سادھ لی۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے حکومت کی اقتصادی اور معاشی پالیسویں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چوتھی سہ ماہی کیلئے 55کروڑ ڈالر کے آسان شرائط پر قرضے کی منظوری دے دی۔
اک رپورٹ کے مطابق 30 جون 2014ء تک پاکستان کے ذمہ غیر ملکی قرضہ 72ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔ 2013-14ء کے مالی سال کے دوران پاکستان کے ذمہ 3ارب ڈالر کی ادائیگیاں ہیں۔ یہ ادائیگیاں صرف ایک بیرونی قرض خواہ آئی ایم ایف کے حوالے سے ہیں۔اس کے علاوہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB)اور دیگر قرض کواہوں کو ادائیگیاں بھی کرنا ہوں گی۔ اس پر ہی بس نہیں بلکہ 14000ارب روپے کا اندرونی قرضہ اس کے علاوہ ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو آئندہ کئی برسوں تک قرضوں سے چھٹکارا نہیں مل سکے گا۔ اس کیلئے حکومت کو کئی مزید یاسے فیصلے کرناپڑسکتے ہیں جو مالیاتی اداروں اور بینکوں سے نئے قرضے لینے یا مزید سخت شرائط پر پہلے سے موجود قرضوں کی مدت میں اضافہ کرانے کی صورت میں ہوسکتے ہیں۔حکومتوں کی طرف سے قرجوں کے یہ انبار قانونی اعتبار سے بھی قابل اعتراض ہیں کیونکہ 2006ء کے FRDLایکٹ میں یہ طے کیا گیا تھا کہ داخلی یا خارجی قرجوں کا حجم جی ڈی پی کے 60فیصد سے تجاوز نہیں کرے گا۔
لیکن ہماری حکومتیں ابتدا سے ہی اس قانون کی خلاف ورزی کرتی چلی آرہی ہیں۔ قرضے کی رقم کا بڑا حصہ ترقی کی بجائے ان مقاصد پر خرچ ہوجاتاہے جن کا ترقیاتی سرگرمیوں سے دور کا تعلق بھی نہیں۔
معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی وہ شرائط ہیں جن میں پاکستانی معیشت بری طرح جکڑی ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کی اقتصادیات کا پہلا اصول اور حکومت کی اولین ترجیح اس کے اپنے عوام کی خوشحالی ہوتی ہے لیکن ہماری حکومت ان سب باتوں سے بے نیاز ان اداروں کی کڑی شرائط پر پورا اترنے کیلئے عوام کو بھوک و افلاس میں مبتلا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ایسے میں اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ معاشی اعتبار سے اگلے دو برس کیلئے پاکستان کو دنیا کا مجبور ترین ملک قرار دیا جاسکتاہے جو مذذکورہ بالآخر اداروں کے شکنجے میں بری طرح جکڑا ہوا ہے۔
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اپنے آپ کو ان سے آزاد کیسے کرایا جاسکتا ہے۔ معاشی پالیسی سازی کے عمل کو آزاد کرانے کیلئے کچھ عرصہ سے مختلف ملکی اداروں کی نجکاری کی خبریں منظر عام پرآ رہی ہیں جن پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ ہمیں یہ ادراک ہونا چاہیے کہ پرائیویٹائزیشن ایک تباہ کن عمل ہے۔ خصوصاََ جس میں غیر ملکی کارپوریشنز پاکستان کی صنعتوں پر اجارہ داری حاصل کرلیں۔
ایسی پرائیویٹائزیشن نہ صرف پاکستان کی معاشی سکیورٹی بلکہ پاکستان کی دفاعی سکیورٹی کیلئے بھی خطرے کا باعث ہے۔ دوسری جانب وزیرخزانہ اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے ادائیگویوں کے توازن پر اطمینان کا ا ظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے مجموعی ملکی پیداوار میں اضافہ اور افراط زر کی شرح میں کمی ہورہی ہے۔
محصولات کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔ امید ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی ملکی پیداوار چار فیصد تک رہے گی۔ وزیرخزانہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک 3ارب 20کروڑ ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے۔
آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرضہ لینے کی شرائط بظاہر بڑی سادہ لگتی ہیں۔ لیکن ان کی پیچیدگیاں عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔
یہ پیش نظر رہے کہ قرض خواہ سب سے پہلے اپنے قرض کی واپسی یقینی بنانے کیلئے راہیں ہموار کرتا ہے۔ ان حالات میں قرضوں کی ادائیگی کیلئے معیشت پر دباؤ ناگزیر ہے کیونکہ 18کھرب روپے کے قرجوں کی معیاد آئندہ سال پوری ہوجائے گی۔
موجودہ صورتحال میں قومی پیداوار اور ٹیکس کی شرح میں اضافے کے ذریعے مجموعی وصولیوں میں اضافے کی حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ ایک جانب سرکاری اخراجات کم ہوں تو دوسری طرف ٹیکس آمدنی میں اضافے کے ذریعے بجٹ خسارے کو قابل قبول سطح پر لایا جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان