بند کریں
منگل فروری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اعلی معیار کی پاکستانی کاٹن کیلئے اقدامات
اطلاعات کے مطابق پاکستانی ملز مالکان بھارت سے اب تک روئی کی کم از کم 8سے 10لاکھ بیلز کے درآمدی معاہدے کر چکے ہیں۔جن میں سے ابتدائی طور پر روئی واہگہ اور کراچی کے راستے پاکستان پہنچنا بھی شروع ہو گئی ہے
احسان الحق:
پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس ملنے کے بعدکچھ عرصہ قبل یورپی یونین کی طرف سے بیشتر پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بھارت سے روئی کی خریداری کے معاہدے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی ملز مالکان بھارت سے اب تک روئی کی کم از کم 8سے 10لاکھ بیلز کے درآمدی معاہدے کر چکے ہیں۔جن میں سے ابتدائی طور پر روئی واہگہ اور کراچی کے راستے پاکستان پہنچنا بھی شروع ہو گئی ہے۔
پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے بھارت سے پاکستان کے مقابلے میں پانچ سے چھ سو روپے مہنگی روئی درآمد کرنے کا بڑا مقصد دراصل آلودگی سے پاک اور لمبے ریشے والی روئی کا حصول ہے تاکہ یورپی منڈیوں میں معیار کے اعتبار سے پاکستانی کاٹن مصنوعات دوسرے ملکوں سے بہتر مقابلہ کر سکیں۔
پاکستان گو کپاس کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن روئی کے معیار کے اعتبار سے پاکستانی روئی میں ابھی بھی بہت زیادہ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
پاکستان میں آلودگی سے پاک اور لمبے ریشے والی روئی تیار نہ ہونے کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مانگ دوسرے ممالک کے مقابلے میں قدرے کم بتائی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جاری کاٹن جنّنگ کے روائتی اور فرسودہ نظام ،کپاس کی چنائی میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے اور کاٹن کنٹرول آرڈینس کے عملی نفاذ نہ ہونے کے باعث پاکستان میں ابھی تک آلودگی سے پاک اور لمبے ریشے والی روئی کی تیاری شروع نہیں ہو سکی جس کے باعث ہماری کاٹن ایکسپورٹس میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔

شاید آپ سب کے علم میں نہ ہو کہ پاکستان میں روئی کی تیاری کیلئے جننگ فیکٹریوں میں ابھی تک انتہائی پرانا ،فرسودہ اور روائتی نظام ”Saw Gin“ رائج ہے جس میں دھاتی آروں کی مدد سے روئی اور بنولے کو الگ الگ کیا جاتا ہے جبکہ بھارت ،ترکی ،امریکہ،برازیل اور چین سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں اب کاٹن جننگ کیلئے ”رولر جننگ “ سسٹم رائج ہے جس کے باعث ان ممالک میں روئی کے ریشے کی لمبائی پاکستان کے مقابلے میں 1سے 3سنٹی میٹر تک زائد ہے جبکہ پاکستان میں کپاس کی چنائی کے ناقص انتظامات کے باعث پاکستانی روئی میں آلودگی کی مقدار 6سے 8فیصد جبکہ بھارت سمیت بیشتر ممالک میں یہ مقدار 1سے 2فیصد تک پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں کپاس کی چنائی شبنم ختم ہونے سے قبل ہی شروع کر دی جاتی ہے جس کے باعث کپاس میں نمی کی مقدار معیار سے زائد ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں کپاس کے پتے بھی شامل ہو جاتے ہیں جبکہ کپاس چننے والی خواتین کے سر ننگے ہونے کے باعث ان کے بال ،ٹافیوں کے ریپر ،جانوروں کے پراور پولی پراپلین کے بورے کے حصے بھی پاکستانی کپاس میں شامل ہوتے ہیں جبکہ چنائی کے بعد اس میں دیگر آلائشیں بھی شامل ہوتی رہتی ہیں اور بعد ازاں یہی پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچنے سے آلودگی سے پاک روئی تیار کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔
پاکستان میں 2003-04ء میں اس وقت کے وزیر تجارت رزاق داؤد نے بڑی تگ و دو کے بعد آلودگی فری کاٹن پراجیکٹ کا آغاز کیا تھا اور رحیم یار خان سمیت ملک بھر کے بیشتر کاٹن زونز میں بڑے بڑے سیمینار منعقد کر کے کاٹن جنرز اور کسانوں کو آلودگی سے پاک روئی کی تیاری کی طرف مائل کیا تھا۔ جس پر لبیک کہتے ہوئے ملک بھر کے کاٹن جنرز نے جیوٹ سے بنے ہوئے بوروں کی بجائے کھلی کپاس یا کپڑے کی پلیوں میں بندھی ہوئی کپاس خریدنے کے ساتھ ساتھ جننگ فیکٹریوں کے اندر کاٹن کنٹرول قواعد پر مکمل علمدرآمد کا وعدہ کیا تھا۔
بڑے زمینداروں نے اس موقع پر شبنم ختم ہونے کے بعد کپاس کی چنائی ،کپاس چنتے وقت عورتوں کے سر ڈھکے ہونے اور چنی ہوئی کپاس کو ٹافیوں کے ریپرز اور دیگر الائشوں سے پاک کرنے کا عہد کیا تھا اور اس دوران م بڑے بڑے ٹیکسٹائل گروپس کے مالکان نے کاٹن جنرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آلودگی سے پاک تیار کی گئی روئی50سے 100روپے فی من اضافی پریمیئم پر خریدیں گے جس پر ملک بھر کے بیشتر کاٹن جنرز نے ممکنہ حد تک آلودگی سے پاک کپاس کی پیداوار شروع کی لیکن ٹیکسٹائل ملز کی طرف سے کاٹن جنرز کو اضافی پریمیئم ادا نہ ہونے کے باعث کاٹن جنرز نے آلودگی سے پاک کپاس کی تیاری میں اپنی دلچسپی کم کر دی۔
کیونکہ انہیں آلودگی سے پاک روئی تیار کرنے کیلئے کاشت کاروں سے قدرے مہنگے داموں پھٹی خریدنی پڑتی تھی۔وزارت تجارت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ان سیمینارز کے موقع پر سمیڈا نے بھی کاٹن جنرز سے وعدہ کی کہ وہ ان کی جننگ فیکٹریوں میں رولر جننگ سسٹم نصب کرنے کے لئے انہیں ہر ممکن فنی و مالی معاونت فراہم کرے گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمیڈا کی طرف سے کئے گئے وعدے صرف اخباری خبروں تک ہی محدود رہے اور پاکستان میں ابھی تک پرانا جننگ سسٹم ہی کام کر رہا ہے۔

بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں آلودگی سے پاک روئی کی تیاری کے ساتھ ساتھ معیار کے حوالے سے برانڈڈ روئی تیار کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک برانڈڈ روئی کا رواج سامنے نہیں آ سکا۔ بھارت میںMCO-5، شنک ر6-، J-34 اور امریکہ میں ”پیما“ نامی کاٹن کے برینڈز دنیا بھر میں بڑے مقبول ہیں اور دنیا میں کپاس خریدنے والے بیشتر ممالک ان ملکوں سے برینڈ کے حوالے سے ہی کپاس خریداری کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں سب سے اعلیٰ معیار کی روئی کو ابھی تک ”افضل“ کے نام سے ہی پکارا جا رہا ہے۔

پاکستانی کاٹن جنرز اور کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ آلودگی سے پاک روئی کی تیاری کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاکہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان آلودگی سے پاک اور لمبے ریشے والی روئی کی خریداری کیلئے پاکستانی روئی کو ہی ترجیح دیں تاکہ ہماری کاٹن ایکسپورٹس میں خاطر خواہ اضافہ سامنے آ سکے لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہو گا جب پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان پاکستان میں تیار کی گئی آلودگی سے پاک اور لمبے ریشے والی روئی کی وہی قیمت پاکستانی کاٹن جنرز کو ادا کریں کہ جس قیمت پر وہ بیرون ملک سے اس معیار کی روئی درآمد کرتے ہیں جبکہ محکمہ زراعت کو بھی چاہیے کہ وہ جننگ فیکٹریوں میں کاٹن کنٹرول آرڈی ننس کا سختی سے نفاذ کریں اور زیادہ نمی اور آلائشوں والی پھٹی خریدنے اور جیوٹ و پلاسٹک بیگ میں فیکٹریوں کے اندر پھٹی رکھنے والے کاٹن جنرز کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ ملک بھر میں آلودگی فری روئی تیار ہونے سے ہماری کاٹن ایکسپورٹس بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ روئی کی درآمد پر خرچ ہونے والے سالانہ ملین ڈالر بھی بچائے جا سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان