بند کریں
پیر جنوری

مزید معیشت و کاروبار

پچھلے مضامین - مزید مضامین
500 ارب روپے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی تیاری
30 جون 2015 ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے تناظر میں اگر حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی تکلیف دہ حقائق سامنے آتے ہیں۔ 2 سال گزر گئے مگر جاڑی پی گروتھ ریٹ کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا
عترت جعفری:
پاکستان کا قومی بجٹ 2015-16 ‘ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کی تیاری عروج پر ہے۔ جنرل بورڈ آف ریونیو‘ وزارت خزانہ اور دیگر وزارتوں اور ڈویڑنوں میں بجٹ تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے اور وفاقی کابینہ 5 جون کو اپنے خصوصی اجلاس میں حتمی بجٹ کی منظوری دے گی۔بجٹ مختلف اجزاء کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس میں صنعت ریاست کی مالی ضروریات کا ایک سال کے عرصہ کے لئے تعین کرتی ہے اور یہ اخراجات کس طرح پورے کئے جائیں گے۔
ان اقدامات کے بارے میں بتائی ہے۔ ریاست کا بنیادی مقصد اپنے باسیوں کی صحت‘ تعلیم‘ حفاظت‘ روزگار‘ تفریح‘ خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔ بجٹ امن مقاصد کی تکمیل کے راستے بتاتا ہے۔ پاکستان کے عوام کا شکوہ رہا ہے کہ حکومتیں ان کے احساسات و جذبات کا لحاظ نہیں رکھتی ہیں اور ان پر ٹیکسوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک ڈالا جاتا ہے‘ جبکہ موجودہ حکومت میں یا سابق ادوار کی حکومتیں بڑے شد و مد سے دعویٰ کرتے نہیں تھکتی ہیں کہ ان کے سبب میں عوام کی ریلیف دینے کے لئے جو ممکن ہوتا ہے وہ کرتی ہیں۔
30 جون 2015 ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے تناظر میں اگر حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انتہائی تکلیف دہ حقائق سامنے آتے ہیں۔ 2 سال گزر گئے مگر جاڑی پی گروتھ ریٹ کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔ رواں مالی سال کے آغاز پر جب معاشی اہداف کا اعلان کیا گیا تھا تو یہ بتایا گیا کہ ملک سے غربت کے خاتمہ کے لئے جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ 5.1 فیصد ہو گا‘ تاہم اب جب مالی سال ختم ہو رہا ہے تو یہ 2.24 فیصد تک میں حاصل کیا جا سکا ہے۔
اس طرح زراعت ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مگر زراعت‘ لارج سکیل‘ مینو فیکچرنگ‘ سمیت اہم شعبوں میں ترقی کے اہداف کافی فرق کے ساتھ حاصل نہیں کئے جا سکے۔ ملک کی برآمدات شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں اور خدشات ہیں کہ 25 بلین ڈالر کو چھو بھی نہیں سکیں گے۔ ان تمام معاملات کا ملک 60 فیصد انتہائی غریب آبادی پر اثر پڑتا ہے۔
جب گروتھ 2.24 فیصد ہو گی تو لاکھوں بے روزگاروں کو کیسے روزگار ملے گا۔ وزیر خزانہ کو اس کا جواب دینا چاہیئے۔ ایف بی آر ملک کا انتہائی اہم ادارہ ہے جس کی ناقص کارکردگی اس ملک و قوم کے لئے سوہان روح بنی ہوئی ہے۔ مالی سال کے آغاز کے پہلے دو ماہ کے اندر ہی یہ علم ہو گیا تھا کہ ادارہ ایف بی آر کے سالانہ ریونیو ہدف کے حصول کی راہ میں بھٹک گیا ہے۔
کبھی سیلاب اور کبھی امن و امان کا بہانہ بنا کر ریونیو کم ہونے کا جواز ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اس مالی سال کے پہلے6 کے دوران شاہراہ دستور پر دوبارہ جماعتوں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا دھرنا ہو سکا۔ چند کنال رقبہ پر بیٹھے اس دھرنے کی وجہ سے ریونیو میں کمی کا جواز تلاش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مالی سال کے نصف کے بعد ریونیو کے ہدف میں کمی کی گئی اور نظرثانی شدہ ہدف مقرر کیا گیا مگر اپریل 2015 میں ایک بار پھر واضح ہو گیا کہ ایف بی آر نظرثانی شدہ ہدف بھی حاصل نہیں کر سکے گا۔
وزارت خزانہ بھی تصدیق کر چکی ہے کہ 2605 بلین روپے حاصل ہوں گے جو اصل ہدف کے مقابلہ میں 200 بلین روپے کم ہیں۔ایف بی آر کی طرف سے ریونیو میں اتنی گراوٹ کی وجہ سے ملک بیشمار ترقیاتی منصوبوں سے محروم ہو جائے گا۔ اور عوام کے حالات زندگی کو سنوارنے کی بہت سی سکیمیں شروع نہیں کی جا سکیں گی۔ حکومت کو اس معاملہ کا سنجیدگی سے نوٹس لینا جاری ہے اور احتساب کرنا چاہیئے۔
رواں مالی سال کے دوران بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ پوری شدت سے جاری رہی ہے۔ پنجاب کے سی این جی سیکٹر کو گزشتہ سات ماہ سے بند رکھا گیا ہے۔ اس سے غریبوں کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ ملک کے اندر کار میں سفر کرنے والا ہر فرد امیر نہیں ہے۔ سڑکوں پر دوڑتی کاروں میں زیادہ تر سفید پوش ہوتے ہیں جو بڑے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے موٴثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے ذاتی گاڑی رکھنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔
بجلی کے 6 گھنٹے اور 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ مسلسل سے جاری رہی۔ توانائی کے اس بحران کو اگر معاشی الفاظ میں ملک جائے تو اس کی وجہ سے ڈیڑھ سے دو فیصد جی ڈی پی ضائع ہی گئے‘ یعنی اس وقت ہم 2.04 فیصد پر کھڑے ہیں۔اگر توانائی کا بحران نہ ہوتا جو ہماری جی ڈی پی کی گروتھ بآسانی ساڑھے 4 فیصد ہو سکتی تھی ‘ رواں مالی سال میں کچھ اچھی باتیں بھی ہو رہی تھیں جس کے تحت حکومت نے بجٹ خسارہ کو قابو میں رکھا۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملک کی معیشت کے تمام جائزے کامیابی سے ہمکنار ہوئے‘ جبکہ مئی میں ہونے والا جائزہ بھی کامیاب رہا ہے اور اس کے تحت ساڑھے پانچ ملین ڈالر قرضہ کی قسط جاری کر دی جائے گی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پر گزاں کے چند ماہ رہ گئے ہیں۔ حکومت کے اس پروگرام کو آخر تک کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہیئے اور پروگرام کی تکمیل پر عالمی و مالیاتی ادارے کو خیرباد کہتے ہوئے اپنی معاشی پالیسیوں کو عوام کا احساسات اور جذبات کا ترجمان بنانا چاہیئے۔
ملک کے اندر ترسیلات وطن کی گروتھ بہت اچھی رہی ہے۔ اس سے ملک کی ادائیگی کے توازن پر دباوٴ میں کمی آتی ہے۔ دنیا کی بہترین ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری آئی۔ جس کے مثبت اثرات ہوں گے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ بھی سخت حالات میں بنے گا۔ ملک کے اندر سیکیورٹی کی صورت حال موجودہ اپریشن ضرب عضب چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ڈی پیز کے مسائل بھی موجود ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے ایک بلین ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ اس لئے تین سالہ منصوبہ کے پہلے سابق دور پر بجٹ میں وسائل حکومت دفاع کے لئے 700 بلین روپے مختص کرنا چاہتی ہے جو ناکافی رقم ہے۔ دفاعی وسائل میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ خسارہ کا ہدف 4.3 فیصد مقرر کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے اخراجات ہیں۔
آئندہ مالی سال کے 5.5 فیصد کا گروتھ ریٹ مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ بجٹ خسارہ کو حتمی طور پر 3.5 فیصد پر لانا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو پہلے 19 بلین ڈالر اور بعدازاں 25 بلین ڈالر کی سطح پر لے جانا ہے۔ ملک کی ترقی میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا کردار بے حد اہم ہے۔ پاکستان میں نجی شعبہ ابھی تک سالانہ ترقیاتی پروگرام اپنا حصہ ڈالنے کے قابل نہیں ہو سکا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ نجی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری سے فوری منافع کے خواہشمند ہوتے ہیں اور انفراسٹکچر کے طویل المعیاد منصوبوں میں سرمایہ کاری سے کتراتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر اور بنیادی نوعیت کے منصوبوں کا تمام تر بوجھ سرکاری شعبہ کے کندھوں پر چلا جاتا ہے۔ آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کا حجم 580 بلین روپے رکھا جائے گا۔
صوبائی ترقیاتی پروگرام اس کے علاوہ ہوں گے۔ رواں سال کے دوران پاک چین اقتصادی کوریڈور کے منصوبوں پر عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم حکومتی زعماء کی کوتاہ اندیشی کے باعث خطرات میں ملک کی ترقی و خوشحالی کے اس انتہائی اہم کوریڈور کو متنازعہ بنا دیاج ائے گا۔ صوبے اور بعض سیاسی جماعتیں کوریڈور کے حوالے سے خدشات و تحفظات ظاہر کر رہی ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم پاکستان کو ان خدشات و تحفظات کو سنجیدگی سے لینا چاہئے ۔ پاکستان کوریڈور کو کالا باغ ڈیم‘ بنائے جانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت کوریڈور کی تمام جزئیات کو کھل کر کیوں بیان نہیں کرتی؟ یہی چیز شکوک پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ وزیراعظم نے پارلیمانی بریفنگ کا اہتمام کیا تھا جس میں کسی حد تک پارلیمانی جماعتوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔
پاک چائنا اکنامک کوریڈور کو دیکھا جائے تو اس کے لئے پی ایس ڈی پی کا 580 بلین روپے کا حجم ناکافی نظر آتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان آئندہ مالی سال میں 5.5 فیصد کی گروتھ چاہتا ہے تو پی ایس ڈی پی کا سائز 700 بلین روپے ہونا چاہئے۔ حکومت نے ٹیکس رعایا ختم کرنے کا ایک منصوبہ تیار کر رکھا ہے جس پر عملدرآمد کا دوسرے سال ایک سو ارب روپے سے زائد کی ٹیکس رعایات کا خاتمہ ہو گا۔
تاہم سوال یہ ہے کہ آئندہ مالی سال میں جب 3100 بلین روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا جائے گا تو یہ حاصل کیسے ہو گا۔ ٹیکس رعایات ختم ہوں یا ٹیکسوں کے بوجھ کو بڑھایا جائے۔ اٹھانا تو عوام کو ہی پڑے گا۔ 2600 بلین روپے سے 3600 بلین روپے کے سفر کے بوجھ سے عوام کا کچومر نکلنے کا خدشہ غیرحقیقی نہیں ہے۔ یہ خدشہ اس وقت بھیانک ہو جاتا ہے جب ایف بی آر جیسے نااہل ادارے پر راہنمائی کی ذمہ داری بھی ڈال دی جائے۔
حکومت کو آئندہ مالی سال کے دوران ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی بھرپور کوشش کرنا چاہئے۔ ملک کے ٹیکس گزار اب مزید ٹیکسوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ کالے دھن کو گردش میں لانے والوں کا احتساب ہونا چاہئے۔ ٹیکسوں کا بوجھ سب کے لئے یکساں اور متوازن ہونا چاہئے۔ زراعت اگرچہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اب زراعت کو بھی ٹیکسوں میں کچھ نہ کچھ شیئر دینا ہو گا۔
اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 5 سے 10 فیصد اضافہ کی نوید ہے۔ یہ اضافہ آئندہ مالی سال کے لئے 6 فیصد افراط زر کے ہدف کو سامنے رکھ کر تجویز کیا گیا ہے۔ تاہم ملک میں لاکھوں افراد نجی اداروں میں بھی کام کرتے ہیں۔ حکومت کو ایسے اضافوں کا اطلاق نجی اداروں میں بھی کرانا چاہئے۔ قومی بجٹ تو 5 جون کو آ جائے گا اور 22 جون تک منظور بھی کر لیا جائے گا۔
تاہم یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک امن و امان کے ماحول میں معیشت‘ زراعت‘ سروسز اور دوسرے سیکٹرز کا پہیہ تیز رفتاری سے نہ چلے اور کم سے کم 10 سال تک پاکستان کا گروتھ ریٹ 8 فیصد سے زائد رہے یہ ایک خواب ہے جس کو صرف اور صرف پرخلوص قیادت ہی حقیقت میں بدل سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-28

(1) ووٹ وصول ہوئے