بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ دیدیا تو ملک بحرانوں کا شکار ہو جائے گا: نواز شریف

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مذاکرات کیلئے پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں لیکن ماورائے آئین مطالبات نہیں مانے جا سکتے، مستعفیٰ ہو گیا تو ملک بحرانوں میں گھر جائے گا۔اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی 12 جماعتوں میں سے 11 حکومت کے ساتھ ہیں۔ میں سول اور عسکری قیادت کے تعلقات کے حوالے سے بھی مطمئن ہوں۔ ہم ملک کو بحرانوں میں نہیں گھرنے دیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دھرنے پر طاقت کے استعمال کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہم مذاکرات کیلئے پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی ہیں لیکن کسی کے ماورائے آئین مطالبات نہیں مانے جا سکتے۔ جو مطالبات مانے جا سکتے ہیں ان کا فورم پارلیمنٹ ہے۔ جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے پہلے ہی درخواست کی جا چکی ہے

اہم خبریں -قومی خبریں -بین الاقوامی خبریں -کھیل -شوبز -مقامی خبریں -بزنس -کشمیر -

آج کا اخبار

حکومت اورتحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کاپہلادورختم،وزیراعظم کے استعفے ،اسمبلیوں کی تحلیل کامطالبہ مسترد،دیگرامورپرآج بات چیت ہوگی،بات چیت خوشگوارماحول میں ہوئی ،سیاسی بحران جلدحل ہونے کاامکان ہے ،گورنرپنجاب

بدھ کی رات 11بجے سے شروع ہونے والی بات چیت تقریباًدوگھنٹے تک جاری رہی ،جس میں تحریک انصاف کی جانب سے حکومتی کمیٹی کوچھ مطالبات پیش کئے گئے

ممکنہ غیر آئینی اقدام کیس،سپریم کورٹ نے عمران اور طاہر القادر ی کو (آج) طلب کرلیا، آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر حکومت کو ہٹانے کا طریقہ انتشار اور انارکی ہے،جسٹس جواد،طاقت کے ذریعے حکومت ہٹانے کی کوشش غیر قانونی اور غیر آئینی ہے،حکومت کو ہٹانے کیلئے دھرنا آئین کے آرٹیکل 18،19 اور 20 کی خلاف ورزی ہے،اٹارنی جنرل،کیا یہ کسی کا حق ہے کہ وہ ہجوم بنا کر سپریم کورٹ میں گھس جائے؟،ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے،جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس

معاملات کو حل کرنے کیلئے بامقصد مذاکرات کئے جائیں ، جنرل راحیل شریف،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی آرمی چیف سے ملاقات، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے جاری دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا، ہوسکتا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات مکمل ہونے تک کیلئے شہباز شریف وزارت اعلیٰ چھوڑ دیں،مبصرین

عمران خان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے آمادہ،چھ مطالبات پیش کردئیے،نوازشریف وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیں،نئے انتخابات،انتخابی اصلاحات،مکمل غیر جانبدار نگران حکومت ،تمام الیکشن کمشنرز کے استعفے اور انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کا مطالبہ،نوازشریف کی موجودگی میں شفافیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،ان کے استعفے کیلئے ایک سال تک بیٹھنا پڑا تو بیٹھیں گے،امریکہ سے نہیں صرف خدا سے ڈرتا ہوں،نوازشریف کے معصوم چہرے کے پیچھے ایک آمر بیٹھا ہے جو لوگوں پر گولیاں چلانے کا حکم دیتا ہے،چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب

اب کسی انفرادی استعفے سے بات نہیں بنے گی ،حکومت کاخاتمہ کرکے قومی حکومت بنائی جائے ،طاہرالقادری ، انقلاب اس وقت تک نہیں اٹھے گاجب تک حکمرانوں کوان ایوانوں سے نکال باہرنہیں کریں گے،نوازشریف اورشہبازشریف اس وقت کے ابن زیاد ہیں جنہوں نے عوام کاکھانااورپانی بندکردیاہے، عوام صبرکامظاہرہ کریں اب حکمرانوکے اعصاب کمزوراورہمارے اعصاب مزیدمضبوط ہوگئے ہیں اورفتح کاوقت انتہائی قریب ہے، حکومت مذاکرات میں مخلص نہیں ہے، انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب

قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کا جمہوریت کے تحفظ کے عزم کا اظہار،وزیراعظم سے استعفیٰ نہ دینے اور دھرنوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا،عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے غلط زبان استعمال کی توسیاسی و جمہوری جماعتیں پشاور سے کراچی تک جلسے جلوس کرینگی،محموداچکزئی،اختلاف ہوتے ہیں لیکن نظام کو ڈی ریل نہیں کرنے دیا جائے گا ، صوفی محمد آئین نہیں مانتے تو وہ جیل میں ہیں لیکن طاہر القادری کھلی چھوٹ دی گئی ہے، فضل الرحمن

ابھی بھی وقت ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرتیں ورنہ جمہوریت کا اللہ ہی حافظ ہے،سراج الحق، حکومت اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا ، اب فیصلے کی طاقت اسلام آباد سے راولپنڈی منتقل ہوچکی ہے،پریس کانفرنس

الطاف حسین سیاسی ہلچل ختم کرانے اور سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کیلئے ایک بار پھر متحرک ہوگئے، الطاف حسین کا وزیراعظم میاں نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ، معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور، ڈاکٹر طاہر القادری اپنے معاملات میں لچک پیدا کرے تاکہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جاسکے،سیاسی ڈیڈ لاک کو ختم کیا جاسکے، الطاف حسین،حکومت اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے تاکہ سیاسی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہوجائیں،نواز شریف

سیاسی بحران کا حل ، وزیر اعلی پنجاب قربانی کا بکرا بن سکتے ہیں،حکومت کی مدت چار سال کرنے، انتخابی اصلاحات لانے پر سنجیدگی سے غورشروع،الیکشن کمیشن کی تشکیل نو،نئے نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات، حکومت کا لچک کامظاہرہ

وزیراعظم آج قومی اسمبلی کے اجلا س سے خطاب کریں گے ،قوم کوموجودہ صورتحال پراعتمادمیں لیں گے

حکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں، چودھری شجاعت ،سانحہ ماڈل ٹاؤن سے بات شروع ہوئی وہیں ختم ہو گی، خواجہ سعد رفیق اور ایف آئی آر میں شامل 21 افراد کو مذاکراتی کمیٹی میں شامل نہ کیاجائے ،14 افراد کو شہید، 100 افراد کو زخمی کرنے والی جمہوریت کو ہم نہیں مانتے: ڈاکٹر طاہر القادری سے مشاورت کے بعد میڈیا سے گفتگو

پاک بھارت مذاکرات نہیں روکنا چاہتے ،مل کر امن کو فروغ دینا چاہئے ، پا کستا نی ہا ئی کمشنر ،پاکستان اور بھارت تصادم کو چھوڑ کر تعاون کو فروغ دیں ،پاکستان افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے جنوبی ایشیا میں امن اولین ترجیح ہے ،عبدالباسط نئی دہلی میں پریس کانفرنس

وزیراعظم باہر نہ آنے پائے،طاہرالقادری کا کارکنوں کو پارلیمنٹ ہاؤس کے محاصرے کا حکم، کارکنوں کو پارلیمنٹ ہاوٴس سے کسی کو باہرنکلنے یا اندر جانے دینے سے روک دیا،حکومت کو مختصر عرصے کی ڈیڈ لائن دے رہا ہوں ہمارے مطالبات تسلیم کیے جائیں،طاہر القادری

پاکستان کی جا نب سے بھارتی فو جی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی‘ بھارتی فوج کا الزام

وزیر اعظم نے گورنر پنجاب کو سیاسی بحران حل کرنے کیلئے خصوصی ٹاسک دیدیا،مسئلے کے پر امن حل کیلئے آخری حد تک جائیں گے،نواز شریف

عمران خان نوجوانوں کیلئے رول ماڈل ہے ،سیاست میں کوئی مسئلہ ایسانہیں جس کاحل مذاکرات میں نہ ہو، اسفندیارولی

حکومت صبرو تحمل کا مظاہرہ کررہی ہے، خواجہ آصف ،حکومت کسی بھی وقت ایسے عناصر کیخلاف کارروائی کرسکتی ہے جنہوں نے آئین اور قانون کو ہاتھ میں لیا ہوا ہے‘ ایوان میں وزیراعظم کو آج اسمبلی میں تمام جماعتوں نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے، وزیراعظم قطعی طور پر استعفیٰ نہیں دیں گے اور نہ ہی انہیں غیر آئینی طور پر ہٹایا جاسکتا ہے ،میڈیا سے گفتگو

وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس اور پاک سیکرٹریٹ میں مظاہرین کے داخلے کا نوٹس لے لیا،فوجی حکام سے رابطہ‘صورتحال بگڑی تو پاک فوج کارروائی کرے گی، فوجی حکام کی طرف سے یقین دہانی

عمران خان جتنی چاہیں تنقیدکرلیں مگرپاکستان کے آئین اورجمہوریت کاتحفظ کریں ،خورشیدشاہ ،سیاستدان ضدی نہیں ہوتا،ضدی آمرہوتاہے ،سیاستدان میں پانی کی طرح لچک ہوتی ہے ،عمران خان کی تنقیدکاجواب وقت آنے پردوں گا،نجی ٹی وی سے گفتگو

پاکستان کی صورتحال پرتشویش ہے ،امیدہے آئین کے تحت معاملات کوپرامن طورپرحل کرلیاجائیگا،یورپی یونین

عمران خان ساری زندگی کنٹینر میں سو ئے رہیں نوازشریف استعفیٰ نہیں دیں گے،مریم نواز،عمران خان ”تم“ سے ”آپ“ پر آئے ہیں امید ہے ان کا لہجہ مزید بہترہوگا،ٹوئٹر پر پیغام

پاکستان میں سیاسی بحران، سری لنکن صدر کا دورہ منسوخ

اہم خبریں -قومی خبریں -بین الاقوامی خبریں -کھیل -

آج کا کارٹون

حالیہ تبصرے

رمیز احمد 19-01-2017 11:37:14

بہت اچھا فیچر ہے

  مزید
syed shoaib 07-12-2016 12:36:53

isko kisi gahar ki baho baeti bnana chahie na kae bahaer bae parda hoo chand rs. kae khatiryae kaam to mardoon ka hae

  مزید
Abdul salam. 07-12-2016 10:09:21

AOA.Thankyou so much please.Your efforts are highly appreciated please for giving us NEWS in very nice briefly.With regards please.

  مزید
Aqib Abbasi 06-12-2016 15:58:32

Imran khan ko kafi arsay say larkiyan nachany ka moqa nai mila abhi woh moqa dhound rahay hain mil nai raha kindly ab Pajama leaks evidence tou lao awam itni pagil nai ha k ap k jotay ilzamat pay yaqin kar k ap ko ainda election main PM jaisi post pay lay jahay

  مزید
اشفاق احمد 05-12-2016 19:22:44

سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں

  مزید
اشفاق احمد 05-12-2016 16:55:34

شیطان اور اس بھائیوں پہ اللہ پاک کی کروڑ کروڑ نعنت

  مزید

ہماری ای میل لسٹ میں شامل ہوں

آج کا سوال

آج کا سوال
پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکن اسلام آباد میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، عمران خان اور طاہر القادری دونوں نے نواز شریف کے استعفی کے مطالبہ سمیت مختلف مطالبات کئے ہیں۔ آپ کے خیال کیا دونوں‌جماعتوں کا دھرنا حکومت کے خاتمے کا سبب بنے گا؟؟؟
آپ اس سوال پر ووٹ دینے کے علاوہ اپنا تبصرہ بھی شامل کر سکتے ہیں۔
حکومت کو دونوں دھرنوں سے کوئی خطرہ نہیں۔
جوں‌جوں وقت گزرتا جائے گا دھرنا حکومت کیلئے خطرہ بنتا جائے گا۔ یہ دھرنے حکومت ڈوبنے کا سبب بنیں‌گے۔
نتائج
سوال پر رائے دیجئے۔

دوسرے قارئین کی رائے پڑھئیے۔