
![]() |
پارلیمنٹ استثنیٰ ختم کردے تو صدر کے خلاف سوئس کیسز کھولنے کیلئے تیار ہیں، وزیراعظم،پارلیمنٹ کے اختیارات کیلئے آخری حد تک جاسکتے ہیں، جمہوریت قائم ہو چکی، ملک ڈکٹیٹر شپ کا متحمل نہیں ہوسکتا، کرسی کی مضبوطی کیلئے اداروں کو مضبوط کر نا ہوگا، کوئی شخص بھی آئین میں ترمیم نہیں کرسکتا، اختیارات صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہیں، یوسف رضا گیلانی کا پارلیمنٹ میں خطاب:
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27جنوری۔2010ء) وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ صدر کو استثنیٰ میں نے نہیں پارلیمنٹ نے دیا ہے، اگرپارلیمنٹ استثنیٰ ختم کردے تو سوئس کیسز کھولنے کیلئے تیار ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد کیا جائیگا، پارلیمنٹ کے اختیارات کیلئے آخری حد تک جاسکتے ہیں، آئین کا تحفظ ہمارا فرض ہے، جمہوریت قائم ہو چکی، ملک ڈکٹیٹر شپ کا متحمل نہیں ہوسکتا، کرسی کی مضبوطی کیلئے اداروں کو مضبوط کر نا ہوگا، کوئی شخص بھی آئین میں ترمیم نہیں کرسکتا، اختیارات صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہیں، میں منتخب وزیر اعظم ہوں، پارلیمنٹ کو اعتماد ہونا چاہیے ۔بد ھ کی شب قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ ایوان میں کراچی کے حوالے سے بحث جاری ہے کراچی بہت اہم شہر ہے کیونکہ وہ معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے ملک کی معیشت کی بہتری کیلئے وہاں امن وامان کا قیام بہت ضروری ہے ہمیں احساس ہے کہ بزنس کمیونٹی میں خوف وہراس یا بد لی سے ملک کی معیشت کو خطرہ ہوتا ہے اس لئے میں خود وہاں کراچی جاتا ہوں صدر مملکت نے بھی وہاں کادورہ کیا وزیر داخلہ بھی وہاں گئے آگ لگنے سے کراچی میں بہت نقصان ہوا ۔وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے بہتری کیلئے کام کیا ہے اور ہم سب مل کر حالات پر قابو پا لیں گے انہوں نے کہاکہ کراچی کے ساتھ ساتھ لکی مروت میں بھی میرے جانے کا پروگرام تھا لیکن موسم کی خرابی کے باعث میں نہیں جاسکا وزیر اعلیٰ سرحد نے بھی وہاں جانا تھا اور جلد میں جا کر حالات کاجائزہ لے لونگا میں وفاقی جماعت کا نمائندہ ہوں لہذا ہم کوئی امتیاز نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہاکہ کبھی کبھی پارلیمنٹ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ صحیح کر دار ادانہیں کررہا ہے لیکن مجھے خوشی ہے کہ ایک ہی سیشن میں آٹھ بل متفقہ طورپر منظور ہوئے ہیں جبکہ ملک افواہوں کی زد میں ہے پارلیمنٹ اپنا صحیح کر دار ادا کررہی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ میں ایوان کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ملک میں سسٹم کو کوئی خطرہ نہیں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے پارلیمنٹ، ایگزیکٹو اور عدلیہ اپنا اپنا کر دارادا کررہے ہیں ہم سپریم کورٹ آف پاکستا ن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اس پر عملدر آمد کرینگے ۔ہم نے وزارت قانون کے ذریعے نیب کو آرڈر کیا ہے کہ کیس چلائیں اور جو تحقیقات ہیں کی جائیں نیب نے ججز کی کمی کے حوالے سے کہاہے کہ اس کیلئے ہم نے رجسٹرار کو لکھا ہے کہ کتنے کیسز کیلئے جج کی ضرورت ہے ہم اس پر عمل در آمد کرینگے ۔سابق اٹارنی ملک قیوم کے خلاف سپریم کورٹ نے کارروائی کا حکم دیا ہے لیکن انہوں نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کیلئے درخواست دی ہوئی ہے جیسے ہی فیصلہ آئیگا ہم ایکشن لینگے ۔انہوں نے کہاکہ نیب کے چیئر مین اور پراسیکیوٹر کی نئی تقرری کی جائے گی ہماری ان سے کوئی محبت نہیں ہے اور یہ سب ہمارے خلاف تھے سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ انہیں تبدیل کریں انہوں نے ہمیں سزائیں دی ہیں جس جج نے مجھے سزا دی تھی میں نے اس کی ایکسٹیشن نہیں روکی ان سے ہم نے کوئی تلخی کا اظہار نہیں کیا رولز آف بزنس کے تحت قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف مشاورت کر کے نیب کے چیئر مین کی نئی تقرری کرینگے وزیر اعظم نے کہاکہ ہم سوئس بینک کے ایشوز کو اوپن کر نے کیلئے تیار ہیں لیکن صدر کو استثنیٰ پارلیمنٹ نے دیا ہے پارلیمنٹ،قومی اسمبلی، سینٹ اور صدر کا نام ہے اگر شوریٰ نے اختیارات دیئے ہیں اور وہ اختیارات واپس لے لے تو ہم ایکشن لینے کیلئے تیار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں معذرت خواہانہ رویے یا فکر مندی کی ضرورت نہیں مجھے متفقہ طورپر وزیر اعظم بنایا گیا وہ بھی جانتے ہیں کہ ہم فیصلے پر عملدر آمد میں سنجیدہ ہیں ہمارے ہوتے ہوئے اداروں میں تصادم نہیں ہوگا اس لئے ہم طویل جدو جہد کر کے یہاں تک پہنچے ہیں ۔آئین کو تحفظ دینا ہمارا فرض ہے کسی کے دل میں یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صدر اور پارلیمنٹ میں توازن نہیں ۔نیشنل کمانڈاتھارٹی پہلے صدر کے پاس تھی لیکن آج یہ پارلیمنٹ کے پاس ہے ۔سترہویں ترمیم کا بھی خاتمہ ہوگا 58ٹوبی بھی ختم ہوگی کیا صدر اپنی پارٹی کی اسمبلی توڑ دینگے یا میں انہیں ایڈوائس دونگا کسی کو ایسا نہیں سوچنا چاہیے ہم پارلیمنٹ کے اختیارات کیلئے آخر حد تک جاسکتے ہیں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اورمیاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے اس وقت محترمہ جنرل پرویز مشرف کی وردی اتروائی یہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کا تقدص تھا ۔محترمہ نے دنیا کو باور کرایا کہ وردی نہیں ہونی چاہیے پھر الیکشن ہوئے جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے نواز شریف کو قائل کیا کہ وہ اس میں حصہ لیں ۔بد قسمتی سے محترمہ شہید ہوئیں ۔اگر محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف الیکشن میں حصہ نہ لیتے تو کیا جمہوریت اور عدلیہ بحال ہوسکتی تھی ۔یہ سب جمہوریت کی وجہ سے ہوا ہے اس لئے ہم تمام اداروں کو مضبوط کرینگے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کا عہدہ میوزیکل چیئر ہے جو صدر یا وزیر اعظم آتا ہے وہ یہ سوچتا ہے کہ کرسی کیسے مضبوط کرنی ہے لیکن یاد رکھیں کہ کرسی نے کسی سے وفا نہیں کی ہم سب نے ملکر اداروں کو مضبوط کر نا ہے ادارے مضبوط ہونگے تو کرسی بچ جائے گی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں ذوالفقار علی بھٹو اوربی بی شہید کی کرسی سنبھالی ہوئی ہے ہم اپوزیشن کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور چاروں صوبوں کی حکومتوں کے مینڈیٹ کااحترام کرتے ہیں۔کسی کو اس پر شک نہیں ہونا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہاکہ گڈ گور ننس پر یقین رکھتے ہیں۔وفاقی حکومت اگر اچھی پالیسیاں دے گی اورصوبائی حکومتیں اس پر عملدر آمد کرینگے تو اچھی گڈ گور ننس ہوگی تنہا وزیر اعظم کچھ نہیں کرسکتا ہے جب لوگوں کو انصاف ملتا رہے گا عدلیہ آزاد رہے گی تو کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے لیکن اقتدار ہم میں ہی رہنا چاہیے کسی اور کے پاس نہیں جانا چاہیے ۔اس وقت ملک میں جمہوریت ہے اور ملک ڈکٹیٹر شپ کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ہم کسی ادارے سے تصادم نہیں چاہتے ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور 73ء کی آئین کی حدود میں رہ کر اداروں کواپنا اپنا کر دار ادا کر نا ضروری ہے ۔ 27/01/2010 22:15:29
|
||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||